نازیبا پیغامات پر 18 ہفتوں کی جیل

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈسٹرکٹ جج الزبتھ روسکو نے پیٹر نن کو سٹیلا کریزی کو نازیبا اور دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے کا مرتکب پایا

برطانیہ کی ایک عدالت نے رکنِ پارلیمان سٹیلا کریزی کو ٹوئٹر پر نازیبا اور دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے پر پیٹر نن نامی شخص کو 18 ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔

33 سالہ پیٹر نن نے رکنِ پارلیمان سٹیلا کریزی کو دس پاؤنڈ کے نوٹ پر جین آسٹن کی تصویر شائع کرنے کی مہم چلانے پر یہ پیغامات بھیجے تھے۔

سٹی آف لندن مجسٹریٹس کی عدالت نے برسٹل سے تعلق رکھنے والے پیٹر نن کو سنا۔

پیٹر نن نے ٹوئٹر پر والتھامسٹو سے تعلق رکھنے والی سٹیلا کریزی کو نازیبا اور دھمکی آمیز پیغامات بھیجے تھے جس میں انھیں ریپ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اور انھیں ڈائن کے طور پر پیش کیا تھا۔

ڈسٹرکٹ جج الزبتھ روسکو نے پیٹر نن کو سٹیلا کریزی کو نازیبا اور دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے کا مرتکب پایا۔ انھوں نے اس موقعے پر ایک محدود حکم بھی صادر کیا۔

اس حکم کے تحت پیٹر نن کو رکنِ پارلیمان سٹیلا کریزی کے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ نہ رکھنے کے علاوہ دس پاؤنڈ کے نوٹ پر جین آسٹن کی تصویر شائع کرنے کی مہم چلانے والی حقوق نسواں کی علم بردار کیولین کریاڈیو پیریز کے ساتھ بھی کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکتے۔