یہ ’بُوٹس آن دا گراؤنڈ‘ ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیق سے معلوم چلا ہے کہ ’بوٹس آن دا گراؤنڈ‘ کی اصطلاح سب سے پہلے 1980 میں استعمال ہوئی تھی

جب کوئی ملک دوسرے ملک اپنی فوج کارروائی کے لیے بھیجتا ہے تو اس کے لیے عام اصطلاح ’بوٹس آن دا گراؤنڈ‘ ہے۔ اس اصطلاح کو امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کئی بار استعمال کر چکے ہیں۔

لیکن ’بوٹس آن دا گراؤنڈ‘ پہلی بار کب استعمال کی گئی؟

پہلی جنگ عظیم میں لفظ ’بوٹ‘ فوجی کے لیے استعمال کیا گیا اور فوجیوں کی بھرتی ’بوٹ کیمپ‘ میں ہوتی تھی۔ لیکن ’بوٹس آن دا گراؤنڈ‘ کی اصطلاح کافی نئی ہے۔

برطانوی فوجی افسر سر رابرٹ گرینگر نے 1966 میں ملایا اور ویتنام میں اپنے تجربات کے بارے میں کتاب لکھی۔ اس کتاب کے 15ویں باب کا عنوان ’فیٹ آن دا گراؤنڈ‘ تھا۔ لیکن یہ اصطلاح کافی مختلف ہے۔

تحقیق سے معلوم چلا ہے کہ ’بوٹس آن دا گراؤنڈ‘ کی اصطلاح سب سے پہلے 1980 میں استعمال ہوئی تھی۔

نیو یارک ٹائمز کے کالم نگار ولیئم سیفائر نے سنہ 2008 میں اس اصطلاح کے بارے میں فوجی تاریخ دانوں کے ساتھ مل کر تحقیق کی۔ اس تحقیق کے لیے شائع ہونے والے متعدد مقالہ جات کا جائزہ لیا گیا۔

ولیئم سیفائر کو آخر کار کرسچن سائنس مانیٹر کی ایک رپورٹ ملی جو ایران میں یرغمال بنائے جانے والے امریکی شہریوں کے بحران کے بارے میں تھی۔

اس رپورٹ میں رپورٹر نے یہ اصطلاح امریکی جنرل وولنی وارنر سے منسوب کی۔

لیکن اگر ’بوٹس آن دا گراؤنڈ‘ کا کسی اور زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ خاصا بے ڈھنگا ہو گا۔

بی بی سی عربی کے محمد یحییٰ کا کہنا ہے ’یہ اصطلاح عربی میں استعمال نہیں ہوتی کیونکہ ہمیں بُوٹس کے ساتھ مسئلہ ہے۔ عمومی طور پر اسلامی تہذیب میں جوتوں کا مضمر مفہوم منفی ہوتا ہے۔‘

چینی زبان میں اس اصطلاح کے قریب ترین کی اصطلاح ’لوہے کا کُھر‘ ہے۔

اسی بارے میں