یہ صرف ہانگ کانگ میں ہی ہو سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین میں صفائی کی عادت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے

آنسو گیس، مرچوں کا سپرے، غصے اور دھوکہ کھانے کا احساس، لوگوں کا پولیس سے بچ کے بھاگنا، لیکن پھر بھی مظاہروں نے ہانگ کانگ کے خاص کردار کو برقرار رکھا ہے۔

ہانگ میں موجود رپورٹروں اور وہاں کے رہائشیوں نے سڑکوں پر اپنے مشاہدات اور تجربات کو شیئر کیا ہے۔

شاید یہ انارکی نہیں ہے لیکن یقینی طور پر یہ ہانگ کانگ میں کئی برسوں کے بعد ہونے والا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔

لیکن اس کے باوجود بھی طلبہ جو اس تحریک کے روح و رواں ہیں، اپنا ہوم ورک کرنے کے لیے وقت ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بلوم برگ نیوز کے رچرڈ فراسٹ نے ہوم ورک کرتے ہوئے ان بچوں کی تصویر ٹویٹ کی ہے۔

رکاوٹیں لگانے پر معذرت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شاید یہ انارکی نہیں ہے لیکن یقینی طور پر یہ ہانگ کانگ میں کئی برسوں کے بعد ہونے والا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے

کازوے بے ایم ٹی آر سٹیشن کے داخلی راستے پر لگی رکاوٹوں پر جمہوریت کے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے درمیان میں ایک چھوٹے سے گتے کے بورڈ پر مظاہرین نے لکھ رکھا ہے کہ ’تکلیف کے لیے معذرت۔‘

ہانگ کانگ کے رہائشی کولیئر نوگیوز جنھوں نے یہ تصویر لی ہے، کہتے ہیں کہ ’میں آج دوپہر جہاں بھی گیا مجھے یہی احساس ہی دیکھنے کو ملا۔ فراخدل اور شائستہ۔‘

چھتری کے ساتھ دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بورڈ پر مظاہرین نے لکھ رکھا ہے کہ ’تکلیف کے لیے معذرت‘

ایک عاجز اور گھریلو سہارا احتجاج کا نشان اس وقت بن گیا جب اسے مرچوں کے سپرے اور آنسو گیس سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اپنی چھتری سے آنسو گیس سے بچنے کی کوشش کرنے والے اس اکیلے احتجاجی کی تصویر کو آن لائن پر بہت دیکھا گیا۔

اور جب منگل کو بارش شروع ہوئی تو اس ’ہتھیار‘ کو اس کے اصل مصرف کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اتوار کی شب مظاہرین نے پولیس کو ڈرانے کے لیے بھی چھتریوں کا استعمال کیا تھا۔

مظاہرین کتنے خوشبودار ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہانگ کانگ میں مقیم ایک صحافی ٹام گرنڈی نے ایک مظاہرہ کرنے والی کی یہ تصویر ٹویٹ کی ہے جو ٹی شرٹ پر خوشبو سپرے کر رہی ہے۔ مظاہروں کے دوران درجۂ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے پسینے کی بدبو بھی بڑھ جاتی ہے۔ بی بی سی کے مارٹن یپ نے یہ بھی دیکھا کہ سڑکوں پر گرمی سے بچانے کے لیے رضاکار لوگوں پر پانی بھی پھینک رہے تھے۔

صاف ستھرے مظاہرین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سڑکوں پر گرمی سے بچانے کے لیے رضاکار لوگوں پر پانی پھینک رہے تھے

بی بی سی کی سائرہ اشعر کے مطابق مظاہرین میں صفائی کی عادت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ صبح اٹھتے ہی پہلا کام ہجوم کی وجہ سے پیدا ہونے والی رات کی گندگی کو صاف کرنا ہوتا ہے۔ طلبہ سگریٹوں کے ٹکڑے اور پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ ناشتے کے لیے بن تقسیم کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا میں انھیں کہیں کہیں ’شائستہ ترین مظاہرین‘ لکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں