معظم بیگ پر دہشت گردی کے الزامات واپس لیے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانوی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے معظم بیگ پر دہشت گردی کے سات الزامات واپس لے لیے ہیں

برطانوی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے گوانتانومو بے میں قید ہونے والے برطانوی شہری معظم بیگ پر دہشت گردی کے سات الزامات واپس لے لیے ہیں۔

45 سالہ معظم بیگ پر الزام تھا کہ وہ شام میں ہونے والی جنگ میں ملوث تھے اور انھیں ایک ایسے تربیتی کیمپ کا دورہ کرنے کے شبے میں گرفتار کیاگیا تھا جہاں مبینہ طور پر بیرونی ممالک میں دہشت گردی کے لیے جانے والوں کو تربیت دی جاتی تھی۔

معظم کو جنوبی لندن کی بیلمارش جیل سے بدھ کو رہا کر دیا جائے گا۔ ان کے ساتھ تین اور افراد کو بھی اس سال فروری میں گرفتار کیا گیا تھا۔

معظم کے مقدمے کی سماعت اگلے پیر کو ہونا تھی۔ انھوں نے اس سے پہلے ایک سماعت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔

بدھ کی صبح کو ان پر چلائے جانے والے مقدمے کے بارے میں ایک میٹنگ میں استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ کراؤن پراسیکیوشن سروس نے ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے مقدمے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پولیس نے معظم بیگ کو برمنگھم کے علاقے ہال گرین سے گرفتار کیا ہے۔ عدالت میں معظم بیگ صرف اپنا نام دیتے وقت بولے اور انھوں نے اپنے خلاف الزامات کے ختم ہونے کے اعلان پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

برطانوی شہری معظم علی سنہ 2001 میں اپنے خاندان کے ہمراہ افغانستان چلے گئے تھے اور پھر افغانستان میں جنگ شروع ہونے کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوگئے تھے۔ انھیں جنوری 2002 میں اسلام آباد سے گرفتار کر کے افغانستان کی بگرام جیل میں ایک سال تک رکھے جانے کے بعد گوانتانوموبے منتقل کر دیاگیا تھا۔

معظم بیگ کو 2005 میں گوانتاموبے سے رہا کر دیا گیا تھا۔ ان پر باضابطہ کوئی الزام نہیں لگایاگیا تھا۔

حال ہی میں بی بی سی کے ہوم افیئر کی نامہ نگار جون کیلی نے بتایا تھا کہ حالیہ برسوں میں معظم بیگ سرکاری تحویل میں لیے جانے والے اشخاص کے خاندانوں کی مدد کرنے والی تنظیم ’کیج‘ کے ساتھ منسلک تھے۔

جون کیلی نے بتایا کہ برطانوی پولیس نےحالیہ دنوں میں شام کی لڑائی میں شرکت کے لیے جانے والوں کی گرفتاریاں کی ہیں۔

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں