’آدم خور‘ پہاڑ پر شیطان کی پوجا

سیرو ریکو
Image caption ہسپانوی نو آبادیاتی دور میں اس پہاڑ سے ساڑھے 56 کروڑ ٹن چاندی نکالی گئی تھی

بولیویا کے سیرو ریکو پہاڑ میں موجود پانچ سو سال پرانی کانوں میں سے نکلنے والی چاندی نے کبھی ہسپانوی سلطنت کو امیر بنا دیا تھا۔

لیکن اب سرنگوں سے اٹے یہ پہاڑ یہاں کام کرنے والے آدمیوں اور لڑکوں کے لیے موت کا جال ہیں جو اپنی حفاظت کے لیے شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔

ایک چھوٹی سی سرنگ میں مٹی اور پیسنے میں شرابور مارکو ایک ریڑھی میں پتھر پھینک رہا ہے۔ اسے پانچ گھنٹے کی شفٹ میں 35 سے 40 مرتبہ یہ پتھر لے کر جانے ہیں۔ وہ اکثر رات کو کام کرتا ہے تاکہ دن کو سکول جا سکے۔

مارکو کی ماں کو اس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا تو وہ چار بچوں کے ہمراہ سیرو ریکو کی رچ ہل میں آ بسی۔ وہ بغیر پانی کے سرنگ کے دہانے پر رہتے ہیں اور ایک خالی کان کو غسل خانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آج کل ان پہاڑوں پر تقریباً 15,000 کان کن کام کرتے ہیں

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اچھا بننا چاہتا ہوں، کان میں کام نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ میں کوئی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہوں، وکیل بننا چاہتا ہوں۔‘ لیکن ابھی تو ان کی تنخواہ کے بغیر ان کا خاندان نہیں چل سکتا۔

ہسپانوی نو آبادیاتی دور میں اس پہاڑ سے ساڑھے 56 کروڑ ٹن چاندی نکالی گئی تھی۔ اسی دوران یہاں تقریباً 80 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے سیرو ریکو کا نام آدم خور پہاڑ پڑا۔

آج کل ان پہاڑوں پر تقریباً 15,000 کان کن کام کرتے ہیں۔ مقامی بیواؤں کی ایک تنظیم کے مطابق اس علاقے میں ہر ماہ تقریباً 14 عورتیں بیوہ ہوتی ہیں۔

دوسروں کی طرح مارکو بھی حادثات، اور سیلیکوسس کی بیماری سے پریشان ہے۔ یہ بیماری سانس میں گرد جانے سے پیدا ہوتی ہے۔

وہاں موجود ایک اکیلی ماں اوگلا کہتی ہیں: ’آپ گرد اندر لے جاتے ہیں، جو آپ کے پھیپھڑوں میں جا کر حملہ کرتی ہے۔‘

ان کے دو بچے 14 سالہ لوئس اور 15 سالہ کارلوس بھی مارکو کی طرح کام کرتے ہیں اور کبھی کبھار تو سکول جانے سے پہلے رات دو بجے ہی شفٹ شروع کرنا پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان کے دو بچے 14 سالہ لوئس اور 15 سالہ کارلوس بھی مارکو کی طرح کام کرتے ہیں

مرد اور بچے کوکا کے پتے چباتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انھیں گرد سے محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ کوکا کے پتے، شراب اور سگریٹوں کے چڑھاوے کانوں کے شیطانی دیوتا ال ٹیو پر بھی چڑھاتے ہیں۔

کانوں کے سبھی منتظمین نے ال ٹیو کے مجسمے سرنگوں میں رکھے ہوئے ہیں۔

مارکو کے افسر گروور کا کہنا ہے کہ ’اس کے سینگ ہیں کیونکہ یہ گہرائی کا دیوتا ہے۔‘

’عموماً ہم یہاں چڑھاوا چڑھانے جمعے کو آتے ہیں کیونکہ اس نے ہمیں بہت سی معدنیات دی ہیں اور وہ ہمیں حادثات سے بھی بچائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کان سے باہر ہم کیتھولک ہیں لیکن جب ہم کان میں داخل ہو جاتے ہیں تو ہم شیطان کے پجاری بن جاتے ہیں۔‘

حیرانی کی بات یہ ہے کہ مارکو اور لوئس جیسے کم عمر بچے بھی یہاں کام کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس علاقے میں ہر ماہ تقریباً 14 عورتیں بیوہ ہوتی ہیں

اس پہاڑ پر قائم واحد خیراتی سکول کے ہیڈ ماسٹر نکلس میرن مارٹینیز کہتے ہیں کہ ’آٹھ، نو اور دس سال کے دس بچے ایسے ہیں جو جب سکول آتے ہیں تو ان کے ہاتھوں پر چھالے ہوتے ہیں، میرے خیال میں وہ کانوں کے اندر کام کرتے ہیں۔‘

قانون میں حالیہ ترمیم کا مطلب یہ ہے کہ بولیویا میں دس سال کی عمر کے بچے قانونی طور پر کام کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کان میں کام کریں جو کہ انتہائی خطرناک کام ہے۔

سو یہ پہلے کی طرح اب بھی غیر قانونی ہے، لیکن قانون پر شاذو نادر ہی عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں