شمالی کوریا جوہری دھماکے نہیں کر رہا: کوریا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کیم یانگ گذشتہ کئی ہفتوں سے نظر نہیں آ رہے

جنیوا میں اقوامِ متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ شمالی کوریا کسی قسم کے جوہری دھماکے یا میزائل کا تجربہ نہیں کر رہا ہے۔

سو سی یانگ کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا چھ فریقی مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

شمالی کوریا سنہ 2008 میں مذاکرات بلاک ہونے کے بعد سے جوہری میزائل اور جوہری دھماکوں پر تجربہ کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کے سفیر نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کر دیا کہ ملک کے رہنما کیم یانگ بیمار پڑ گئے ہیں۔

کیم یانگ کو گذشتہ 4 ہفتوں کے دوران عوامی مقامات پر نہیں دیکھا گیا ہے اور انھوں نے ستمبر کے اواخر میں ایک اہم سیاسی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

سرکای ٹی وی پر نشر ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ ’جسمانی کمزوری‘ کا شکار ہیں۔

روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں سو سی یانگ نے اس تاثر کو رد کر دیا کہ ان کا ملک مزید میزائل ٹیسٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ تاہم انھوں نے عندیہ دیا کہ شمالی کوریا کی پالیسی امریکی اور جنوبی کوریا کی مشقوں کی جواب میں تھی۔

ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’ہمیں بھی الرٹ رہنا ہوگا۔ ہمیں ان فوجی مشقوں کے خلاف حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لیے تیار رہنا پڑھے گا۔

اگر کسی صورت دونوں نے مل کر فوجی مشقیں کیں تو ہم بھی ایسا کریں گے۔‘

شمالی کوریا نے سنہ 2005 میں اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کی بات کی تھی لیکن اس مکرتے ہوئے اس نے سنہ 2006 اور سنہ 2010 اپنے آلات ٹیسٹ کیے۔

اس جوہری پروگرام کے حوالے سے چھ ممالک کے درمیان بات چیت مذاکرات ہوئے۔

ابھی تک ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں ہیں۔

اسی بارے میں