دولت اسلامیہ کے بدلتے رنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکیہ کا خیال ہے کہ شام وعراق میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد اکتیس ہزار تک ہے

گذشتہ کئی دنوں سے دولت اسلامیہ نے عراق اور شام میں اپنے زیر تسلط علاقے کو وسعت دینے کی کوشش میں دونوں ممالک کی درمیانی سرحد کے قریبی قصبے کوبانے پر حملوں میں خاصا اضافہ کر رکھا ہے۔ درج ذیل مضمون میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وُڈ نے اسی تناظر میں اس جہادی گروہ کے عروج کا جائزہ لیا ہے۔

اگر امریکی فضائی حملوں میں کچھ عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ شام میں ان حملوں کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے میں یہ نعرہ سنائی دے کہ ’یہ سب صلیبی عربوں کی سازش‘ کا نتیجہ ہے کہ حملوں میں معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں۔

امریکی حملوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی وجہ بڑی سادہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ان حملوں میں جس جہادی گروہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ کوئی باقاعدہ فوج نہیں۔ دولت اسلامیہ تو جنگجوؤں کا وہ گروہ ہے جس کے ارکان ادھر ادھر مقامی آبادیوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔

بلکہ اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ سُنی دیہاتوں میں پھیلے ہوئے دولت اسلامیہ کے جنگجو زیادہ تر مقامی قبائلی افراد پر ہی مشتمل ہیں۔ یہ لوگ کوئی غیر ملکی نہیں بلکہ ان کا خمیر عراق اور شام کی مٹی سے ہی اٹھا ہے۔

شروع شروع میں جب ’عرب سپرنگ‘ کے ساتھ ساتھ خطے میں جمہوریت کے فروغ کی باتیں ہو رہی تھیں تو سب کا خیال یہی تھا کہ اب یہاں سے القاعدہ اور اس کے اتحادی گروہوں کی چُھٹی ہو رہی ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوسرے برس ہی جب میں بشارالاسد کے خلاف بر سرپیکار تنظیم ’فری سیرین آرمی‘ کے ایک سینیئر اہلکار سے ملا تو اُس کے بارے میں مغربی ذرائع کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ شخص معتدل مزاج کا سیکولر آدمی ہے۔

بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ وہی شخص ہے جو کچھ ہی عرصہ بعد یو ٹیوب پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں چیچنیا سے تعلق رکھنے والے خون کے پیاسے ایک جہادی کمانڈر کے ساتھ کھڑا تھا۔

ویڈیو میں اس شخص کا کہنا تھا کہ ’ ہم ان ہاتھوں کو چُومیں گے جو اسد کے خلاف گولی چلاتے ہیں۔‘

جوں جوں شام میں خانہ جنگی پھیلتی گئی، باغیوں کے ذہن بھی تبدیل ہوتے گئے۔ جن کچھ افراد کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا کہ وہ خاص مذہبی نہیں تھے، انھوں نے بھی اپنی گفتگو میں قرانی آیات کا تڑکہ لگانا شروع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام اور عراق کے متعدد شہروں اور قصبوں میں دولت اسلامیہ کے پرچم لہرا رہے ہیں

اس بدلتے ہوئے رجحان کی ایک توضیح یہ سامنے آئی کہ وہ جنگجو جو اپنی چاروں جانب لاشیں ہی لاشیں دیکھ چکے تھے وہ اپنے ایمان کو دوبارہ دریافت کر رہے تھے اور یوں ان کے مذہبی خیالات کو بھی تقویت مل رہی تھی۔

اس کے علاوہ لوگ یہ امید بھی کھو چکے تھے کہ ایک دن مغرب ان کی مدد کو آئے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ جہادیوں کی جانب متوجہ ہو گئے جنھیں خلیجی ریاستوں کی زبردست مالی مدد حاصل تھی۔

اِن جہادی گروہوں میں شام میں القاعدہ کا ساتھی ’النصرۂ فرنٹ‘ بھی شامل تھا جو آج کل دولت اسلامیہ کی طرح امریکی بمباری کے نشانے پر ہے۔

ان لوگوں سے ہمارا ٹاکرا 2013 میں بھی ہوا تھا جب یہ لوگ آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہے تھے۔ لوگوں کے نظروں سے اوجطل رہنے والے اس دہشتناک گروہ کے کچھ ارکان ہم سے گفتگو کرنے پر رضامند ہو گئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اگر ایک جمہوری شام ان کا خلافت اسلامی قائم کرنے کے مطالبہ تسلیم نہیں کرتا تو کیا شام میں جہاد جاری رہے گا۔

ایک کمانڈر کا جواب تھا: ’ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ شامی حکومت ہماری بات نہ مانے۔ شام ایک اسلامی ملک ہے اوتر یہاں کے لوگ اسلام سے محبت کرتے ہیں۔یہ لوگ سیکولر حکومتوں سے تنگ ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ شام کے لوگ شریعت کو مسترد کریں۔‘

’فری سیرین آرمی‘ کے دوسرے ارکان کے برعکس النصرہ کے پاس پیسے بھی تھے اور اس کی تنظیم بھی مضبوط تھی اور اس کے علاوہ یہ گروہ چوری چکاری اور اغوا برائے تاوان میں بھی اتنا ملوث نہیں ہوا جتنا کہ دوسرے جہادی گروہ ہیں۔ یہ النصرہ ہی تھا جس نے شام میں اُس خونریز جدو جہد کا آغاز کیا جس کا مقصد ان جہادی گروہوں کے خلاف لڑنا تھا جو آج کل دولت اسلامیہ میں شامل ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے اندر گزشتہ سال سے ایک اور خانہ جنگی جاری ہے۔ یہی اسی خانہ جنگی کا نتیجہ ہے کہ النصرہ اور اس جیسے دیگر جہادی گروہوں نے حلب سے دولت اسلامیہ کو مار بھگایا اور اسے اپنے ہیڈ کوارٹر رقہ میں مسدود کر دیا۔

Image caption امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا مقصد دولتِ اسلامیہ کی صلاحتیوں کو تباہ کرنا ہے

اس پسپائی کے بعد دولت اسلامیہ نے اپنا رخ عراق کی جانب کر لیا جہاں کی سنی آبادی بغداد کی شیعہ اکثریتی حکومت سے نالاں بیٹھی ہوئی تھی۔ دولت اسلامیہ نے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا اور اس برس جون میں اس جہادی گروہ نے عراق کے دوسرے بڑا شہر موصل پر قبضہ کر لیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق النصرہ کے کمانڈر اپنے پرانے حریف یعنی دولتِ اسلامیہ سے الحاق کی باتیں کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ النصرہ دیگر جہادی گروہوں کو بھی دولت اسلامیہ سے الحاق کا سبق پڑھا رہی ہے۔

اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ اگر مغربی طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ شام میں ان کی بمباری نتیجہ خیز ثابت ہو، تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متحارب جہادی گروہوں میں سے کسی ایسے گروہ کا انتخاب کریں جس پر بھروسہ کیا جا سکے۔

لیکن یہ وہ کام ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادی گزشتہ تین برس سے نہیں کر سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی مغربی سیاسی رہنما بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ ایک طویل جنگ ثابت ہو گی۔

اسی بارے میں