شام:دولتِ اسلامیہ اور کرد ملیشیا کے درمیان شدید لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مشرقی شام کے قصبے کوبانی کی جانب دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے دوران کرد ملیشیا اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

شام کی سرحد کے پار ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کوبانی کے مشرقی مضافات میں مارٹر گولے داغے گئے اور وہاں پر بھاری اور چھوٹے اسلحے کے استعمال ہونے کی خبریں ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے ایک ہفتے سے جاری حملے کو پسپا کرنے کے لیے کیے گئے فضائی حملوں کے با وجود وہ کیوبین کے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر ترکی نے کہا ہے کہ وہ کیوبین کو شدت پسندوں کے ہاتھوں قبضہ ہونے سے بچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

اس عزم کا اظہار وزیرِ اعظم احمد دویوتوگلو نے جمعرات کو ترک پارلیمان کی طرف سے فوج کو شام اور عراق میں جا کر شدت پسندوں کے خلاف جنگ کے حق میں قرار داد کے بعد کیا۔

دولتِ اسلامیہ کی طرف سے کیوبین پر قبضے کے لیے 15 ستمبر سے عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد سے اب تک 160000 شامی شہری سرحد پار ہجرت کر گئے ہیں۔

دریں اثنا خبر رساں ادارے اے پی نے عراقی محکمۂ دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے شمالی عراق میں ایک سرکاری ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

دولت اسلامیہ کی جانب سے جمع کی صبح کیوبین کے اندر اور عسکری لحاظ سے اہم پہاڑی پر کرد ملیشیا کے ٹھاکنوں پر فائر کیے گئے۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈم کے مطابق یہ لڑائی دوپہر کے قریب اور شدت اختیار کر گئی جس میں قصبے کے مشرقی حصے کو گولا بارود سے نشانہ بنایا گیا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کوبانی پر یہ اب تک کا سب سے مسلسل جاری رہنے والا حملہ ہے۔

اس سے پہلے ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کوبانی میں داخل ہوگئے ہیں۔ کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹ کے رکن ایلن مینبک نے سی این این کو بتایا تھا کہ جہادیوں نے قصبے کے جنوب مغربی حصے میں واقع تل شیر کے علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں