دولتِ اسلامیہ: برطانوی شہری کی ہلاکت کی ویڈیو جاری

تصویر کے کاپی رائٹ HO
Image caption الن کی بیوی باربرہ نے اس ہفتے الن کی رہائی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’وہ بے گناہ ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ نے ایک اور ویڈیو جاری کی ہے جس میں مغوی برطانوی شہری الن ہیننگ کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سالفرڈ سے تعلق رکھنے والی ٹیکسی ڈرائیور الن ہیننگ گذشتہ دسمبر میں شام میں امداد پہنچا رہے تھے کہ انھیں اغوا کرکے دولتِ اسلامیہ نے مغوی بنایا۔

دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ مہینے برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کو ہلاک کرنے کی ویڈیو میں 47 سالہ الن ہیننگ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس ہلاکت پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’برطانیہ ان قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے وہ سب کچھ کرے گا جو یہ کر سکتا ہے۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس شادی شدہ امدادی کارکن کو جس کے دو بچے ہیں، ہلاک کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ ’کتنا وحشی اور کراہت انگیز ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’میری دعائیں الن کی بیوی باربرہ، ان کے بچوں اور ان کے اقابرین کے ساتھ ہیں۔‘

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ’الن کو شام میں اس مشکل گھڑی میں لوگوں کی مدد کے لیے جانا ہی تھا۔‘

خیال رہے کہ الن کی بیوی باربرہ نے اس ہفتے الن کی رہائی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’وہ بے گناہ ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ نے ماضی میں ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جس میں دو امریکی صحافیوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف اور برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہنز کا سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا۔

تازہ ویڈیو جمعے کو جاری کی گئی جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی لیکن اس میں ایک صحراہ میں الن ہیننگ کو گھٹنوں کے بل بیھٹے ہوئے دکھایا گیا اور ان کے ساتھ کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شدت پسند کھڑے تھے۔

یہ ویڈیو دولتِ اسلامیہ کے ایک شدت پسند کی طرف سے ایک شخص کو قتل کرنے کی دھمکی پر ختم ہوتی ہے جس کا تعارف پیٹر کاسگ کے نام سے کیا گیا۔

بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار گورڈن کاریرہ نے کہا کہ یہ ویڈیو دولتِ اسلامیہ کی طرف سے جاری کردہ دیگر ویڈیوز کی طرح ہے لیکن یہ ذرا مختصر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں گذشتہ ہفتے برطانوی پارلیمان کی طرف سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی اجازت دینے کی طرف بھی شارہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جاری کردہ ویڈیوز کی طرح اس میں بھی برطانوی لب وہ لہجہ رکھنے والے شخص موجود تھا۔

اسی بارے میں