ہیننگ کا قتل گھناؤنا اور ناقابل معافی اقدام ہے: کیمرون

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایلن کی بیوی باربرا نے اس ہفتے ہی ان کی رہائی کی اپیل کی تھی

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمالی برطانوی شہری ایلن ہیننگ کا قتل ایک ’گھناؤنا اور مکمل طور پر ناقابل معافی اقدام‘ ہے۔

عراق اور شام میں سرگرم تنظیم دولت اسلامیہ نے جمعے کو ایلن ہیننگ کی ہلاکت کی ویڈیو جاری کی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے اس ہلاکت پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’برطانیہ ان قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔‘

انھوں نے دولتِ اسلامیہ کو ’وحشی‘ تنظیم قرار دیا۔

ایلن ہیننگ بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کیمرون کا کہنا تھا کہ وہ ایک ’شفیق، شریف اور دوسروں کا خیال رکھنے والے انسان‘ تھے۔

مانچسٹر کے علاقے سیلفرڈ سے تعلق رکھنے والی ٹیکسی ڈرائیور ایلن ہیننگ گذشتہ دسمبر میں شام میں امداد پہنچا رہے تھے کہ انھیں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے مغوی بنا لیا تھا۔

گذشتہ ماہ دولت اسلامیہ نے ایک اور برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کی ہلاکت کی ویڈیو میں ایلن ہیننگ کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption ویڈیو میں ایک صحرا میں ایلن ہیننگ کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا

حال ہی میں دولت اسلامیہ نے ایک اور ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں امریکی امدادی کارکن پیٹر کاسگ کے قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس شادی شدہ امدادی کارکن کو جس کے دو بچے ہیں، ہلاک کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ ’کتنی وحشی اور مکروہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’میری دعائیں ایلن کی بیوی باربرا، ان کے بچوں اور ان کے اقابرین کے ساتھ ہیں۔‘

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’ایلن کو شام میں اس مشکل گھڑی میں لوگوں کی مدد کے لیے جانا ہی تھا۔‘

خیال رہے کہ ایلن کی بیوی باربرا نے اس ہفتے ہی ان کی رہائی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’وہ بے گناہ ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ نے ماضی میں ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جس میں دو امریکی صحافیوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف اور برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہنز کا سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا۔

تازہ ویڈیو جمعے کو جاری کی گئی جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی لیکن اس میں ایک صحرا میں ایلن ہیننگ کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا اور ان کے ساتھ کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شدت پسند کھڑا تھا۔

یہ ویڈیو دولتِ اسلامیہ کے ایک شدت پسند کی طرف سے ایک شخص کو قتل کرنے کی دھمکی پر ختم ہوتی ہے جس کا تعارف پیٹر کاسگ کے نام سے کیا گیا۔

بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار گورڈن کاریرا نے کہا ہے کہ یہ ویڈیو دولتِ اسلامیہ کی طرف سے جاری کردہ دیگر ویڈیوز کی طرح ہے لیکن یہ ذرا مختصر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں گذشتہ ہفتے برطانوی پارلیمان کی طرف سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی اجازت دینے کی طرف بھی شارہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جاری کردہ ویڈیوز کی طرح اس میں بھی برطانوی لب وہ لہجہ رکھنے والے شخص موجود تھا۔

اسی بارے میں