’ہانگ کانگ میں قانون کی عمل داری کی بحالی ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہانگ کانگ سٹوڈنٹس فیڈریشن نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کچھ گینگز کو مظاہریون پر حملہ کر وایا۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ پیر کو حکومتی دفاتر اور سکول دوبارہ کھولنے کے لیے پولیس ’تمام ضروری اقدامات‘ اٹھائے گی۔

سنیچر کو ٹی وی پر تقریر میں سی وائے لیونگ نے جمہوریت کے حامی مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے تعطل کے بعد اب حکومت اور شہریوں کو ان کے ’معمولاتِ زندگی بحال کرنے دیں۔‘

ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ 2017 میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکیٹو کے انتخاب سے قبل چین امیدواروں کے ناموں کی منظوری دینے کا فیصلہ واپس لے۔

ہانگ کانگ کے مرکزی علاقے میں گذشتہ کئی روز سے جاری احتجاج میں ہزاروں افراد شامل ہوئے ہیں اور سنیچر کی شب بھی یہ افراد سڑکوں پر موجود تھے۔

سی وائے لیونگ نے یہ تقریر ایسے وقت میں کی جب جمعہ کو مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کی وجہ سے مظاہرین اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دیے گئے تھے۔

ہانگ کانگ میں بی بی سی کی نامہ نگار ببیتا شرما کے مطابق ایڈمیریلٹی ڈسٹرکٹ میں ہزاروں افراد نے پرتشدد جھڑپوں کے خلاف مظاہرہ کیا جو اب تک ہونے والے بڑے مظاہروں میں سے ایک تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے انیس افراد کو گرفتار کیا ہے جو ’منظم جرائم کی سرگرمیوں‘ میں ملوث تھے۔

تاہم سنیچر کو بھی تین مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں لیکن ان کی شدت جمعے کے مقابلے میں کم تھی۔

چیف ایگزیکیٹو سی وائے لیونگ نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین پر ہونے والے تشدد کی ’سخت مذمت کرتے ہیں‘ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تشدد تب تک نہیں رک سکتا جب تک ہانگ کانگ میں ’سماجی نظام‘ دوبارہ قائم نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ مظاہرین کو ’فوری طور پر‘سرکاری ملازمین کو اپنے دفتروں میں جانے دینا چاہیے اور مرکزی سڑکوں کو خالی کر دینا چاہیے تاکہ پیر کو پھر سے سکول کھل سکیں۔

جمعہ کے روز میں ہونے والی چھڑپوں کی وچہ سے ہانگ کانگ سٹوڈنٹس فیڈریشن مذاکرات سے دستبردار ہو گئی تھی۔

انھوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کچھ گینگز کو مظاہرین پر حملہ کرنے کی اجازت دی تھی تاہم ہانگ کانگ کے سکیورٹی امور کے سربراہ لائی تنگ کوک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جھڑپوں میں ملوث ہونے والے 19 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن میں سے آٹھ افراد ’منظم جرائم کی سرگرمیوں‘ میں ملوث تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر منظم جرائم پیشہ افراد منشیات کے کاروبار، عصمت فروشی اور بھتہ خوری جیسے غیر قانونی کاموں سے جانے جاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں وہ ریئل اسٹیٹ اور فنانس جیسے شعبہ جات میں بھی دقم رکھ رہے ہیں۔