دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی، کوبانی میں شدید لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قصبے کے مشرقی کنارے پر مکانات پر دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں

شام میں ترکی کی سرحد کے قریب واقع قصبے کوبانی کے گردونواح میں کرد ملیشیا اور دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اس قصبے کا تین ہفتے سے محاصرہ کیا ہوا ہے اور ان اتوار کو انھوں نےاس پر قبضہ کرنے کے لیے شدید حملے کیے ہیں۔

اس قصبے کی حفاظت شامی کرد ملیشیا کر رہی ہے جنھیں امریکہ کی قیادت میں اتحادی ممالک کی جانب سے فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشین گن چلنے کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں اور قصبے کے مشرقی کنارے پر مکانات پر دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی لڑائی اب تک اس علاقے میں ہونے والی شدید ترین لڑائی ہے۔

لڑائی میں تیزی آنے کے بعد مزید ہزاروں افراد نے کوبانی سے نقل مکانی کی ہے۔

کوبانی کے محاصرے کے بعد اب تک ایک لاکھ 60 ہزار شامیوں نے پناہ لینے کے لیے ترکی کا رخ کیا ہے۔

ادھر کوبانی میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران داغا جانے والا ایک راکٹ سرحد پار ترک علاقے میں ایک مکان پر گرا ہے جس سے دو بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption کوبانی کے محاصرے کے بعد اب تک ایک لاکھ 60 ہزار شامیوں نے پناہ لینے کے لیے ترکی کا رخ کیا ہے

شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شب اتحادی طیاروں نے کوبانی کے گرد موجود دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جس سے ان کی پیش قدمی وقتی طور پر رک گئی تھی۔

تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ ان شدت پسندوں نے ایک ایسی اہم پہاڑی پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد ان کے کوبانی پر قبضے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

اگر دولتِ اسلامیہ کوبانی پر قابض ہوگئی تو اسے شام اور ترکی کی سرحد کے ایک وسیع علاقے کا کنٹرول مل جائے گا۔

شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ شمالی شہر حساکہ میں 16 قیدی دولتِ اسلامیہ کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ایسے ہی ایک قیدی نے تنظیم کو بتایا کہ شہر پر فضائی حملوں کے بعد اس جیل کے دروازے کھول دیے گئے جہاں انھیں رکھا گیا تھا۔

قیدی کے مطابق اس نے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی لاشیں دیکھی ہیں۔ فضائی حملوں میں اس علاقے میں 30 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ملی تھیں۔

حزب اللہ بھی میدان میں

ادھر لبنان کے شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی بھی دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حزب اللہ نے شام اور لبنان کی سرحد کے قریب موجود شدت پسندوں پر مارٹر گولے پھینکے ہیں۔

لبنان کی فوج نے بھی گذشتہ مہینے ارسل نامی سرحدی قصبے میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر حملے کیے تھے۔

اسی بارے میں