لیبیا: برطانوی مغوی سکول ٹیچر کو رہا کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ GED
Image caption ڈیوڈ بالم رہائی کے بعد جمعرات کو واپس برطانیہ پہنچ گئے ہیں

لیبیا میں شدت پسندوں نے مغوی برطانوی سکول ٹیچر ڈیوڈ بالم کو رہا کر دیا ہے۔

ڈیوڈ بولم کو رواں سال مئی میں اغوا کیا گیا تھا اور اس وقت لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی کے ایک عالمی سکول میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ڈیوڈ بولم محفوظ اور صحت ہیں اور اب اپنے خاندان کے پاس واپس جا چکے ہیں۔

ڈیوڈ بولم کے اغوا کو ان کے اہلخانہ اور برطانوی دفترِ خارجہ کی درخواست پر منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ایک مقامی سیاسی گروپ کے ذریعے رقم ادا کی گئی اور ڈیوڈ بولم کو آزاد کرایا گیا۔

بی بی سی کے عالمی امور کی نامہ نگار کیرلین ہالوے کا کہنا ہے کہ معلومات کے مطابق تاوان سکول سے مانگا گیا تھا اور ڈیوڈ بولم کی رہائی کے لیے اس مطالبے کو پورا کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنی رقم ادا کی اور اسے کس نے ادا کیا لیکن دفترِ خارجہ اس ضمن میں ہونے والے مذاکرات میں شامل نہیں تھا۔

ڈیوڈ بالم رہائی کے بعد جمعرات کو واپس برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔

28 اگست کو جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ڈیوڈ بالم نے سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور اس میں انھوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے رہائی کے لیے مدد مانگی تھی۔

اس میں انھوں نے مزید کہا کہ وہ صحت مند اور محفوظ ہیں اور انھیں کافی عرصے سے یرغمال بنایا گیا ہے۔

ڈیوڈ بالم کو جب اغوا کیا تو اس وقت وہ بن غازی میں واقع انٹرنیشنل سکول کے وائس پرنسپل تھے۔ یہ سکول اب بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔

اسی بارے میں