’ہسپانوی نرس یورپ میں ایبولا کی پہلی مصدقہ مریض‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مذکورہ نرس کی طبیعت گذشتہ ہفتے ناساز ہونا شروع ہوئی جب وہ چھٹیوں پر تھیں:انا ماتو

سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک نرس میں ایبولا وائرس کی تصدیق کے بعد ہسپتال میں اس معاملے کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے ایبولا کی وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو امریکی قومی سلامتی کے معاملات میں پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔

اب تک اس مرض کے نتیجے میں 3400 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے۔

سپین کی وزیرِ صحت انا ماتو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایبولا کے دو مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کو یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔

اس نرس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مغربی افریقہ سے باہر ایبولا کا شکار ہونے والی پہلی مریض ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ خاتون اس ٹیم کا حصہ تھیں جنہوں نے ان دو ہسپانوی پادریوں مینویل گارسیا ویجو اور میگوئل پجارس کی دیکھ بھال کی تھی جنھیں ایبولا کا شکار ہونے کے بعد افریقی ممالک سیرالیون اور لائبیریا سے سپین لایا گیا تھا۔

یہ دونوں پادری بعدازاں انتقال کر گئے تھے۔

اس نرس کو دارالحکومت میڈرڈ کے قریب ایک ہسپتال میں پیر کی صبح شدید بخار کی حالت میں داخل کروایا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ہسپانوی وزیرِ صحت نے کہا کہ مذکورہ نرس کی طبیعت گذشتہ ہفتے ناساز ہونا شروع ہوئی جب وہ چھٹیوں پر تھیں اور اب ان کی حالت بہتر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مینویل گارسیا جن کی عمر 69 تھی 25 ستمبر کو میڈرڈ کے ہسپتال میں فوت ہوئے جنہیں ایبولا کا مرض سیئیرالیون میں لاحق ہوا انہیں ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

وزیرِ صحت نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی وزارت اور عوامی صحت کے ذمہ داران اس مریض کو بہترین دیکھ بھال اور تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے مل کر کوشش کر رہے ہیں۔

اس دوران امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ امریکی ہوائی اڈوں پر مغربی افریقہ کے ممالک سے آنے والے مسافروں کی مزید سکریننگ کی جائے۔

براک اوباما نے ایبولا کی وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی کوششوں کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کی قومی سلامتی کے حوالے سے پہلی ترجیح قرار دیا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ میں اس وبا کے پھیلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

اوباما نے یہ بات ایسے موقع پر کہی ہے جب مغربی افریقہ میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے پانچویں امریکی کو علاج کے لیے واپس وطن لایا گیا ہے۔

اشوکا مکپو کو پیر کو لائبیریا سے امریکہ لایا گیا۔

تھامس ڈنکن وہ پہلے امریکی ہیں جنھیں لائبیریا میں یہ مرض لاحق ہوا تھا اور وہ ڈیلس کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ان کے بارے میں ڈاکٹروں نے پیر کو کہا کہ وہ ابھی تک تشویش ناک حالت میں ہیں مگر ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

براک اوباما نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مغربی افریقہ میں پھیلنے والی اس وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں حصہ بٹانے کو کہا۔

اب تک دنیا بھر میں ایبولا کے ساڑھے سات ہزار تصدیق شدہ مریض ہیں مگر حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد بہت زیادہ ہے۔

اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں گنی، سیرالیون اور لائبیریا شامل ہیں۔

اسی بارے میں