’پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے نئے اساتذہ کی بھرتی سے بھی بڑا چیلنج ہے

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 93 ممالک میں اساتذہ کی شدید کمی ہے اور پرائمری تعلیم کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے سال 2015 تک مزید 40 لاکھ ٹیچرز کی ضرورت ہو گی۔

یونیسکو کے شماريات کے ادارے ’یو آئی ایس‘ کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق 2030 تک دو کروڑ 70 لاکھ اساتذہ کو بھرتی کرنے کی ضرورت ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع افریقی ممالک میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ سب سے زیادہ ہے اور 2030 تک ٹیچرز کا ضرورت کا دو تہائی اس خطے کے لیے درکار ہو گا۔

اس کے علاوہ ان افریقی ممالک میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ٹیچرز کی کمی کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکوا کے مطابق’ ایک اچھی پرائمری تعلیم حاصل کرنے کا خواب لاکھوں بچوں سے دور رہے گا، جو ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں کلاس رومز میں تربیت یافتہ اساتذہ ناکافی تعداد میں ہیں۔‘

’تعلیم کے کسی بھی نظام میں اساتذہ مرکزی اہمیت کے حامل ہیں، نئے اساتذہ کی بھرتی اور ان کی تربیت، اور پہلے سے موجود ٹیچرز بچوں کے سکول میں پڑھنے کی اہلیت کے تحفظ میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔‘

اساتذہ کے عالمی دن پر جاری ہونے والی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے دباؤ میں بہت سارے ممالک ایسے ٹیچرز کو بھرتی کر رہے ہیں جن میں سے اکثریت کو بنیادی تربیت حاصل نہیں ہے۔

Image caption افریقہ میں بچوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں میں جانے کی وجہ سے اساتذہ کی زیادہ کمی کا سامنا ہے

رپورٹ میں سال 2012 کے اعداد و شمار کے 75 فی صد سے بھی کم پرائمری سکولوں میں ٹیچرز کو قومی معیار کے مطابق تربیت حاصل تھی جبکہ جنوبی سوڈان، سینگال، انگولا سمیت سب صحاران افریقہ میں یہ تناسب 50 فی صد سے بھی کم تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے نئے اساتذہ کی بھرتی سے بھی بڑا چیلنج ہے۔

سب صحاران افریقی ممالک میں بھرتی کیے جانے والے نئے اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے 2020 تک سالانہ پانچ ارب 20 کروڑ ڈالر کے اضافی مالی وسائل درکار ہوں گے جبکہ نائیجریا جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں میں نہیں جاتی وہاں ہر ایک ارب 801 کروڑ ڈالر سالانہ اضافی خرچ کرنا ہوں گے۔

یونیسکو کے شماريات کے ادارے ’یو آئی ایس‘کے ڈائریکٹر ہینڈرک وین ڈئر پال کے مطابق’ مثبت پہلو یہ ہے کہ بہت سارے ممالک اضافی اساتذہ کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں اگر وہ اسی طرح سے تعلیم کے شعبے میں بتدریج مالی وسائل کو بڑھاتے گے، سب صحاران افریقہ میں یہ تناسب سات فی صد سالانہ ہے اور اس سے ان کی زیادہ ٹیچرز اور بچوں کو کلاس رومز میں لانے کے عزم پر سنجیدہ ہیں۔‘

اسی بارے میں