سپین: ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کی تحقیقات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میڈرڈ کے ہسپتال میں ہنگامی حالت کا سا سماں ہے اور سخت حفاظتی انتظامات کا نفاد کیا گیا ہے

مہلک ایبولا وائرس سے سپین میں ایک نرس کے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد بیماریوں سے بچاؤ کے یورپی مرکز کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان تمام افراد کی نشاندہی انتہائی ضروری ہے جو اس مریضہ سے رابطے میں رہے ہیں۔

سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک نرس میں مغربی افریقہ میں ہزاروں ہلاکتوں کی وجہ بننے والے ایبولا وائرس کی تصدیق کے بعد ہسپتال میں اس معاملے کے تحقیقات بھی جاری ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے ایبولا کی وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو امریکی قومی سلامتی کے معاملات میں پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔

اب تک اس مرض کے نتیجے میں دنیا میں ساڑھے تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ ہسپانوی نرس مغربی افریقہ سے باہر ایبولا کا شکار ہونے والی پہلی مریضہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ خاتون اس ٹیم کا حصہ تھیں جنہوں نے ان دو ہسپانوی پادریوں مینویل گارسیا ویجو اور میگوئل پجارس کی دیکھ بھال کی تھی جنھیں ایبولا کا شکار ہونے کے بعد افریقی ممالک سیرالیون اور لائبیریا سے سپین لایا گیا تھا۔

یہ دونوں پادری بعدازاں انتقال کر گئے تھے۔

نرس کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد ان کے ہسپتال میں ہنگامی حالت کا سا سماں ہے اور سخت حفاظتی انتظامات کا نفاد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ان درجنوں افراد کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے جو اس نرس یا پہلے ہلاک ہونے والے دونوں پادریوں کے ساتھ رہے تھے۔

تاہم بیماریوں سے بچاؤ کے یورپی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر مارک سپرینجر کا کہنا ہے کہ یورپ میں اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہسپانوی نرس مغربی افریقہ سے باہر ایبولا کا شکار ہونے والی پہلی مریضہ ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ’یورپ میں اکا دکا مریض سامنے آ سکتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک سامنے آ چکا ہے۔ ہم نے امریکہ میں ایک مریض دیکھا ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان مریضوں سے تعلق میں رہنے والے تمام افراد کو ڈھونڈ نکالا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ممکن ہوا تو بیماری پر کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا اور یہ وائرس یورپ میں نہیں پھیلے گا۔ ڈاکٹر مارک سپرینجر

اس سے قبل پیر کو سپین کی وزیرِ صحت انا ماتو نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایبولا کے دو مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کو یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔

اس نرس کو دارالحکومت میڈرڈ کے قریب ایک ہسپتال میں پیر کی صبح شدید بخار کی حالت میں داخل کروایا گیا۔

ہسپانوی وزیرِ صحت نے کہا کہ مذکورہ نرس کی طبیعت گذشتہ ہفتے ناساز ہونا شروع ہوئی جب وہ چھٹیوں پر تھیں۔

وزیرِ صحت نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی وزارت اور عوامی صحت کے ذمہ داران اس مریض کو بہترین دیکھ بھال اور تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے مل کر کوشش کر رہے ہیں۔

اس دوران امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ امریکی ہوائی اڈوں پر مغربی افریقہ کے ممالک سے آنے والے مسافروں کی مزید سکریننگ کی جائے۔

براک اوباما نے ایبولا کی وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی کوششوں کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کی قومی سلامتی کے حوالے سے پہلی ترجیح قرار دیا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ میں اس وبا کے پھیلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

اوباما نے یہ بات ایسے موقع پر کہی ہے جب مغربی افریقہ میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے پانچویں امریکی اشوکا مکپو کو لائبیریا سےعلاج کے لیے واپس وطن لایا گیا ہے۔

براک اوباما نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مغربی افریقہ میں پھیلنے والی اس وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں حصہ بٹانے کو کہا۔

اب تک دنیا بھر میں ایبولا کے ساڑھے سات ہزار تصدیق شدہ مریض ہیں مگر حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد بہت زیادہ ہے۔

ایبولا سے اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں گنی، سیرالیون اور لائبیریا شامل ہیں۔

اسی بارے میں