سعودی عرب میں معروف شیعہ عالم کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جون 2012 کو پولیس نے جب مشرق صوبے کے قاطف ضلعے سے شیخ نمر کو گرفتار کیا تھا تو ان کی ٹانگ پر چار گولیاں ماری تھیں۔ گولیاں مارنے کا یہ واقعہ متنازع بنا ہوا ہے

سعودی عرب میں ایک عدالت نے ملک کے معروف شیعہ عالم آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔

اس سزا کی اطلاع شیخ نمر کے بھائی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں دی ہے۔

آیت اللہ نمر کے خلاف مقدمے کی کارروائی گذشتہ برس ریاض میں شروع ہوئی تھی اور ان پر استغاثہ نے ’نفاق کے بیج بونے‘ اور ’قومی یکجہتی و اتحاد کو نقصان پہنچانے‘ کے الزامات عائد کیے تھے۔

شیعہ رہنما 2011 میں ملک کے مشرقی صوبے میں ہونے والے حکومت مخالف عوامی مظاہروں کے بڑے حامیوں میں سے ایک تھے۔

انھیں دو برس قبل گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کی کوشش کے دوران وہ پولیس اہلکار کی گولی لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی گرفتاری کے بعد سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں حالات کئی دن تک کشیدہ رہے تھے۔

تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں اہلِ تشیع کی اکثریت ہے اور وہ طویل عرصے سے ملک کے حکمران سنّی خاندان کے ہاتھوں امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ہمسایہ ملک بحرین میں جمہوریت کے حق میں تحریک کے آغاز کے بعد اس علاقے میں فروری 2011 میں بادشاہت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

سعودی حکام ملک میں شیعہ افراد کے خلاف امتیازی سلوک سے انکار کرتے ہیں اور ایران پر ملک کے اندر بےچینی پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں۔

شیخ نمر کے بھائی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ انھیں ریاض میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے بدھ کی صبح موت کی سزا دینے کا حکم دیا۔

مارچ 2013 میں جب شیخ نمر کے مقدمے کا آغاز ہوا تو استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کو سولی پر چڑھایا جائے۔

اس وقت انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ شیخ نمر کو انصاف نہیں مل پائے گا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ شیخ نمر کو جب 2012 میں گرفتار کیا تھا تو اس وقت انھیں گولی لگی تھی اور ابھی تک ان کو طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں۔

جون 2012 کو پولیس نے جب مشرق صوبے کے قاطف ضلعے سے شیخ نمر کو گرفتار کیا تھا تو ان کی ٹانگ پر چار گولیاں ماری تھیں۔ گولیاں مارنے کا یہ واقعہ متنازع بنا ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شیخ نمر نے اپنی گاڑی سکیورٹی فورسز کی گاڑی میں دے ماری تھی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تاہم شیخ نمر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شیخ نمر نے گرفتاری کی مزاحمت کی، تاہم ان کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔

شیخ نمر کو آٹھ ماہ تک زیر حراست رکھا گیا اور فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق پہلے چار ماہ ان کو ریاض میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔

شیخ نمر کی سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں اہلِ تشیح کی بڑی تعداد ان کے پیروکار ہیں۔ شیخ نمر پرامن مظاہروں کے حق میں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو 2011 میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میں الفاظ کی دھاڑ کو حکام کے خلاف مسلح جدوجہد پر ترجیح دیتا ہوں ۔۔۔ الفاظ کی طاقت گولی سے زیادہ ہے کیونکہ مسلح جھڑپ میں حکام کا ہی فائدہ ہو گا۔‘

اسی بارے میں