جنگ جو غزہ کے ڈاکٹروں نے لڑی

اگلے ہفتے قاہرہ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اس پر بحث ہوگی کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران غزہ میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی تعمیر نو کیونکر ممکن ہو سکتی ہے۔ دیگر عمارتوں کی تباہی اپنی جگہ، لیکن پچاس دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جو تباہی غزہ کے ہسپتالوں کی ہوئی اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔

نہ تو ڈاکٹر نوین کی نظر سے ایسی صورتحال گزری تھی اور نہ ہی ڈاکٹر سائمن کو اس کا کوئی تجربہ تھا۔

جنگ کے دوران عام شہریوں نے جو ویڈیوز بنائی تھیں ان میں غزہ میں افراتفری کے مناظر دیکھے جا سکتے تھے جہاں ڈاکٹر زخمیوں کی بھرمار میں گھرے ہوئے تھے اور بھاری بھرکم کیمرے اٹھائے ہوئے صحافی ہسپتال کے ایک بستر سے دوسرے کی جانب دوڑ رہے تھے۔

بستروں کی کمی کی وجہ سے کئی مریض فرش پر پلاسٹک کی شیٹوں پر پڑے ہوئے تھے اور ان کی خون اور ادویات کی بوتلیں ان کے سروں پر لٹک رہی تھیں۔

ڈاکٹر سائمن کے بقول: ’دنیا بھر میں ایسا کوئی ہسپتال نہیں ہے جو زخمیوں کی ایسی اچانک بھرمار سے نبرد آزما ہو سکے۔ تاہم اگر ان کے پاس وہ سہولیات ہوتیں جیسی ہمارے پاس لندن میں ہیں، تو شاید وہ صورتحال کا مقابلہ کر سکتے۔‘

ڈاکٹر نوین کوالے اور ڈاکٹر سائمن کالورٹ نہایت تجربہ کار سرجن ہیں۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب 31 ستمبر کی رات کو شفا ہسپتال کے مناظر دیکھے تو وہ دو سو سے زائد بری طرح زخمی افراد کو دیکھ کر چکرا گئے۔

یہ دونوں سرجن لندن کے کنگز کالج ہسپتال کی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم میں شامل تھے جو ان زخمیوں کی مدد کے لیے غزہ گئے تھے جو جنگ میں اپنے ہاتھ یا پاؤں کھو چکے تھے۔

غزہ تو دور کی بات ہے، اپنے اس دورے سے پہلے یہ دونوں برطانوی سرجن کبھی مشرق وسطیٰ بھی نہیں گئے تھے۔

ڈاکٹر سائمن کنگز کالج ہسپتال کے شعبہ حادثات کے سربراہ ہیں۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کہنا تھا کہ اگرچہ وہ غزہ جانے کے معاملے میں تذبذب کا شکار تھے، لیکن انھوں نے سوچا کہ اپنے ڈاکٹر ساتھیوں کی مدد کرنا ان کا فرض ہے۔

Image caption بستر نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کو وقت سے پہلے گھر جانے کا کہنا پڑا، لیکن ان میں کچھ ایسے ہیں جو اپنا گھر بھی کھو چکے ہیں

’طبی دنیا کے لوگ ایک عالمی برادری کا حصہ ہوتے ہیں اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ضرورت کے وقت اپنے دیگر ساتھیوں کے کام آئیں۔‘

یاد رہے کہ شفا ہسپتال غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال ہے، لیکن اس کی گنجائش بھی محض 583 بستروں پر مشتمل ہے۔

برطانوی سرجنوں کے بقول غزہ کے ہسپتالوں کے شعبہ حادثات میں کام کرنا باقی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ جب بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہاں کے ہسپتال زخمیوں سے کھچا کھچ بھر جاتے ہیں اور ہسپتال میں موجود تمام سہولیات اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہوتی ہیں۔

Image caption دھماکے میں عبداللہ کی ٹانگ اس بری طرح زخمی ہوئی کہ اسے جسم سے الگ کرنا پڑا

اگرچہ غزہ اور غرب اردن کے علاقے میں 27 ہسپتال موجود ہیں، لیکن ان میں اکثر بہت چھوٹے ہیں اور یہاں چند ہی زخمیوں کی دیکھ بھال ہو سکتی ہے۔ صرف شفا، ناصر ہسپتال اور خان یونس کا یورپیئن غزہ ہسپتال ہی وہ تین ہسپتال ہیں جہاں بڑے حادثات سے نمٹے کی سہولیات موجود ہیں۔

اسی بارے میں