دنیا میں ایبولا سے ہلاکتیں 4000 سے تجاوز کر گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپین میں ایک بینر جس پر ایبولا ایمرجنسی لکھا ہوا ہے

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایبولا کے نتیجے میں ہلاکتیں 4000 سے تجاوز کر چکی ہیں۔

حالیہ اعدادوشمار کے ظاہر کرتے ہیں کہ اب تک اس وائرس کے نتیجے میں 4024 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں لائبیریا، گنی اور سیئیرالیون شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اخراجِ خون کی بیماری کے نتیجے میں سینیگال میں آٹھ جبکہ امریکہ میں ایک ہلاکت واقع ہو چکی ہے۔

ادھر نیویارک کے جے ایف کے ہوائی اڈے پر ایبولا کے مریضوں کی سکریننگ شروع کی جا رہی ہے۔

ہوائی اڈے پر ایبولا سے متاثرہ ملکوں لائبیریا، سیئرالیون اور گنی سے آنے والوں مسافروں کا درجۂ حرارت دیکھا جائے گا اور انھیں چند سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔

آنے والے دنوں میں نیویارک ہی کے نیوآرک، شکاگو کے اوہیئر، واشنگٹن کے ڈلس اور ایٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر بھی سکریننگ شروع کی جائے گی۔

یہ قدم بدھ کو امریکی ریاست ٹیکسس میں ایبولا سے متاثرہ مریض کی ہلاکت کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ٹامس ڈنکن لائبیریا سے امریکہ آئے تھے اور ان میں ایبولا کی تشخیص امریکہ پہنچنے کے بعد ہی ہوئی۔

عالمی ادارۂ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایبولا کے ہاتھوں اب تک 4033 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس مرض کے اب تک کل 8399 کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں زیادہ تر مغربی افریقہ میں ہیں۔

لائبیریا کی صدر ایلن جانسن سرلیف نے ملک میں قرنطینہ نافذ کرنے کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ کر رکھا ہے۔

تاہم ملک کے قانون دانوں نے صدر کو اضافی اختیارات دینے سے انکار کر دیا ہے اور ایک قانون دان نے بوفل چیمبرز نے خبردار کیا کہ یہ اضافی طاقت ملک کو ایک ’پولیس سٹیٹ‘ بنا دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایبولا کی حالیہ لہر اب تک کی تاریخ کی بدترین لہر بتائی جاتی ہے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں کام کرنے والے طبی عملے میں سے 233 افراد اس مرض کے پھیلنے کے بعد سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ سپین میں ایبولا کے دو مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کو بھی یہ مرض لاحق ہو چکا ہے جن کی حالت نازک مگر مستحکم بتائی جاتی ہے۔

سپینش وزیراعظم ماریونو رخوئے نے جمعے کو اس مرض کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی جن کے ملک میں سات افراد کو ایبولا کے شبے میں زیر نگرانی ہیں ان میں دو حجام شامل ہیں جن کا اس نرس سے تعلق رہ چکا ہے۔

اسی بارے میں