سوشل میڈیا پر جنگ

ہیشٹیگ تصویر کے کاپی رائٹ Active change foundation

دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ سوشل میڈیا پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہادیوں کی طرف سے پھیلائے گئے پیغام سے کس طرح بہتر طریقے سے نمبرد آزما ہوا جائے۔

گذشتہ ہفتے ایلن ہیمنگ کے قتل کے وقت کچھ امید کی کرن بھی نظر آئی تھی۔

جمعہ سے سنیچر تک دولتِ اسلامیہ کی پراپیگنڈا مہم کمزور پڑتا نظر آئی۔

ہیننگ کے قتل کی رپورٹ کے فوراً بعد ہیشٹیگ ’ناٹ ان مائی نیم‘ نیٹ پر کئی گھنٹے چھایا رہا۔ یہ مغرب میں رہنے والے ان مسلمانوں کی طرف سے ہے جو تنگ آ چکے ہیں اور جن کے دل ٹوٹ چکے ہیں کہ کس طرح ان کا مذہب ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی کی طرف سے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق یہ ہیشٹیگ اتنا زیادہ دیکھا جا رہا تھا جتنا کہ کوئی ’نیوز بلیٹن‘ دیکھا جاتا ہے۔

اس ہیشٹیگ کے پیچھے ایکٹیو چینگ فاؤنڈیشن کا ہاتھ ہے۔ یہ تنظیم شدت پسندی کے خلاف سرگرم ہے۔

اے سی ایف کے حنیف قادر کہتے ہیں انھیں اور تنظیم کے دوسرے نوجوانوں کو اس مہم کا خیال اس طرح آیا کہ عام مسلمانوں کی بڑی تعداد کی بات تو کہیں سنی نہیں جاتی۔ ان کی خواہش ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے وہ جگہ واپس لے لیں جس پر انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیغام بہت سادہ ہے۔ ’مسلمان اور غیر مسلم کہہ رہے ہیں ’نہیں کسی طور نہیں، اسلام کے نام پر نہیں، اور کسی بھی مذہب اور انسانیت کے نام پر نہیں۔ یہ بہت سادہ اور بہت مضبوط پیغام ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق اس کی لانچ کے بعد اسے یوٹیوب پر تقریباً 30 کروڑ افراد دیکھ چکے ہیں۔ مشرقی لندن کے علاقے والتھمسٹو کی گلیوں میں جنم لینے والے اس خیال کے لیے یہ کوئی کم پذیرائی نہیں ہے۔

اس سے پہلے دولتِ اسلامیہ نے جنگی علاقے کو جہاد کی سرزمین قرار دیا تھا جہاں یا تو آپ عیش و آرام کی زندگی گذارتے ہیں یا آپ شہادت حاصل کر لیتے ہیں۔

پیغام اب زیادہ انتہا پسندانہ اور پر تشدد ہو گیا ہے۔ برطانیہ سےتعلق رکھنے والے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو لڑائی کے لیے اب ’کال آف ڈیوٹی‘ جیسی ویڈیو گیم کی تشبیہہ اور زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔

کنگز کالج لندن کے شیراز مظہر اور ان ساتھیوں نے شام میں سرگرام جہادیوں پر ایک جامع تحقیق کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’حقیقی طور پر آپ کے سامنے پوری دنیا سے آئے ہوئے ہزاروں غیر ملکی جنگجو ہیں جو اس جہاد کے متعلق جو وہ لڑ رہے ہیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں۔‘

’اگر میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والا کوئی بیس سالہ نوجوان ہوں جو شام جانے کا سوچ رہا ہے تو میں آن لائن جاؤں گا اور برمنگھم، لندن یا مانچیسٹر سے تعلق رکھنے والے کسی دوسرے نوجوان سے رابطہ کروں گا اور اس سے اس کا تجربہ پوچھوں گا اور دو طرفہ بات کرتے ہوئے اس سے وہ چیزیں جاننے کی کوشش کروں گا جس سے وہ گزر چکا ہے اور میں گزر رہا ہوں۔ اور وہ ان سب چیلنجز کا سامنا کر چکا ہے جن کا میں کرنے والا ہوں۔‘

سوشل نیٹورکس جیسا کہ ٹوئٹر نے شدت پسندانہ اکاؤنٹس کو بند کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے کاؤنٹر ٹیررزم انٹرنیٹ ریفرل یونٹ کے سراغ رساں ہر ہفتے تقریباً 1100 سو ایسے مواد کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں سے تقریباً تین چوتھائی شام اور دولتِ اسلامیہ سے متعلق ہے۔

اسی بارے میں