کوبانی پر تازہ فضائی حملے، دولتِ اسلامیہ کی پسپائی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی سربراہی میں اتحادی ممالک کے فورسز ترکی کے ساتھ شام کے سرحدی قصبے کوبانی میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے دولتِ اسلامیہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔

ایک سینیئر مقامی اہلکار نے بتایا کہ فضائی حملوں اور دفاعی فورسز کی پیش قدمی کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو قصبے کے مضافاتی علاقوں کو پسپا ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے ایسی اطلاعات تھیں کہ دولت اسلامیہ نے کوبانی کے ایک تہائی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

امریکی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے کوبانی کے قریب نو فضائی حملے کیے جس میں دولتِ اسلامیہ کے مورچوں، گاڑیوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کوبانی میں حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ’ایسا لگتا ہے کہ کرد ملیشیا کا قصبے کے ایک تہائی حصے پر قبضہ ہے اور وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلاعات تھیں کہ دولت اسلامیہ نے کوبانی کے ایک تہائی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے

ھر ترکی کے وزیر خارجہ نے ترکی کی جانب سے اکیلے دولت اسلامیہ کے خلاف زمینی کارروائی کے خیال کو رد کیا ہے۔

انقرہ میں جمعرات کو نیٹو کے نئے سربراہ جینز سٹولٹنبرگ سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ مولود جاوشوغلو نے شام کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحد کو ’نو فلائی زون‘ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

ترکی کو اس وقت شام کے قصبے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف کرد جنگجوؤں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔

ترکی نے صورتِ حال پر نظر رکھنے کے لیے اپنی سرحد پر ٹینک تو کھڑے کر دیے ہیں لیکن اس نے ابھی تک کوبانی میں ’مداخلت‘ کا فیصلہ نہیں کیا۔

ترکی نے ابھی تک خود کو دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم ہونے عالمی اتحاد کی کارروائیوں سے دور رکھا ہے۔ اس کی ایک وجہ کردوں کو مسلح کرنے کے بارے میں ترکی کے تحفظات ہیں۔ ترکی اپنے ملک میں کرد اقلیت کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے۔

ترکی کی کرد اقلیت گذشتہ کئی دنوں سے ترکی کی حکومت سے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کے لیے مظاہرے کر رہی ہے۔

ترکی شام سے ملحقہ اپنی سرحد پر نو فلائی زون کا قیام چاہتا ہے، فرانس ترکی کے اس مطالبے کی حمایت کر رہا ہے لیکن امریکی حکام کے بقول یہ مطالبہ فی الحال زیر غور نہیں۔

اسی بارے میں