’صوبہ انبار دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ شام کے سرحدی شہر کوبانی کو فتح کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں

عراقی حکام نے مغربی صوبے انبار میں فوری فوجی امداد کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ اس علاقے کے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں میں جانے کا خطرہ ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے صوبے کے دارالحکومت رمادی پر حملے شروع کر رکھے ہیں اور وہاں کئی فوجی اڈوں پر قبضہ جما لیا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انبار میں صورتِ حال ’نازک‘ ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ شام کے سرحدی شہر کوبانی کو فتح کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

انبار دفاعی اہمیت کا حامل صوبہ ہے اور یہاں عراق کا دوسرا بڑا ڈیم حدیثہ واقع ہے۔

انبار پر قبضے سے دولتِ اسلامیہ کو شام اور عراق کے درمیان رسد کی ترسیل کا راستہ مل جائے گا اور اس سے ممکنہ طور پر عراقی دارالحکومت بغداد پر حملوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

عراق کے الشرقیہ ٹیلی ویژن کے مطابق انبار کی صوبائی کونسل نے عراقی حکومت کو ایک درخواست بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی زمینی فوجی دولتِ اسلامیہ کے جنگ جوؤں سے لڑنے میں مدد فراہم کرے۔

امریکی فوج نے حالیہ دنوں میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کئی فضائی حملے کیے، جن کی مدد سے انھیں حدیثہ ڈیم سے پسپا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس دولتِ اسلامیہ کی انبار میں پیش قدمی نہیں رکی۔

اخبار دا ٹائمز کے مطابق کونسل کے نائب صدر فلاح العیساوی نے خبردار کیا کہ انبار دس دنوں کے اندر اندر دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام اور ترکی کی سرحد پر کوبانی میں جاری جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی توجہ انبار سے ہٹ گئی ہے۔

ایک امریکی فوجی اہلکار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ انبار میں صورتِ حال ’نازک‘ ہے۔ انھوں نے کہا: ’انھیں (صوبے کے حکام کو) رسد فراہم کی گئی ہے اور وہ مقابلہ کر رہے ہیں لیکن یہ (صورتِ حال) مشکل اور پرخطر ہے۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کی سرکاری فوج دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔

اسی بارے میں