دنیا کی مشکل ترین نوکری؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2013 میں جنرل قادر پولیس سٹیشن پر ایک خودکش حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے میں ان کے 30 ماتحت مارے گئے

عراقی شہر کرکوک میں پولیس کے سربراہ کے عہدے کو دنیا کی مشکل ترین نوکری کہا جا سکتا ہے۔ یہاں کے پولیس چیف جنرل سرحد قادر نہ صرف دولتِ اسلامیہ سے محاذ آرا ہیں بلکہ متعدد دوسرے دشمنوں سے چومکھی لڑ رہے ہیں۔

جب دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے حملہ کیا تو سرحد قادر کے محافظوں نے مزید مدد طلب کرنے کی درخواست کی۔ اس کے جواب میں جنرل نے پولیس دستے سے کہا: ’بندوقیں اور راکٹ پرویپیلڈ گرینیڈ اٹھا لو۔‘

جھڑپ رات بھر چلتی رہی۔ صبح کے وقت جب اجالا پھیلا تو پتہ چلا کہ جنگجو مورٹر لے آئے ہیں۔ جنرل اور ان کے ساتھی ان کی زد میں آ گئے۔ ان کے تین ساتھی زخمی ہو گئے اور ایک مارا گیا۔

جنرل نے 11 سال پرانے اس ساتھی کے بارے میں کہا: ’میں اس پر اپنے بھائیوں جیسا اعتماد کرتا تھا۔‘

جنرل قادر کو کرکوک میں 11 سال ہی ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ کردوں کے پیش مرگ گوریلا جنگجو تھے اور صدام حسین کے خلاف چھاپہ مار جنگ لڑتے رہے تھے۔ جب امریکہ نے عراق پر قبضہ کر لیا تو انھیں پولیس کا یہ عہدہ سونپ دیا گیا جو اتنے برسوں میں آنے والے کئی انقلابوں کے بعد بھی ان کے پاس ہے۔

اس دوران ان کے 245 سے زیادہ ماتحت ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بموں، گولیوں اور زہر کے ذریعے ان کی جان لینے کی درجنوں کوششیں ہو چکی ہیں۔

ان کے سوپ میں سنکھیا ملایا جا چکا ہے۔ گذشتہ برس ان کے پولیس سٹیشن پر خودکش حملہ ہوا جس میں 30 افراد مارے گئے۔ ان کے خاندان کو بھی اس نوکری کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ 2005 میں باغیوں نے ان کے دھوکے میں ان کے بھائی کو ہلاک کر دیا تھا۔

Image caption جنرل قادر عام پولیس افسر نہیں ہیں، وہ بیک وقت کئی کردار ادا کرتے ہیں

جنرل قادر کا اب تک بچے رہنا اس اعتبار سے بھی خاصا حیرت انگیز ہے کہ وہ اکثر پہلی صف میں رہتے ہیں، ان عراقی فوجی افسروں کی طرح نہیں جو جون میں دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کی خبر سن کر عام کپڑوں میں موصل سے فرار ہو گئے تھے۔

جنرل قادر عام پولیس افسر نہیں ہیں۔

جب وہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر گرینیڈ پھینک رہے ہوتے ہیں تو ان کا کردار کسی جنگی کمانڈر جیسا ہو جاتا ہے۔ جب وہ کسی سنی گاؤں میں جا کر وہاں سے کسی مشتبہ شدت پسند کو گرفتار کر کے لاتے ہیں تو اس وقت ان کا کردار انسدادِ دہشت گردی کے کسی عہدے دار جیسا ہو جاتا ہے۔

جب وہ کسی شیخ کی وساطت سے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں تو اس وقت وہ قبائلی سردار بن جاتے ہیں۔

تاہم ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ جنرل قادر سب سے بڑھ کر کرد ہیں۔ ان کے عملے کے زیادہ تر اہلکاروں کا تعلق کرد برادری سے ہے۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ ان کا مخصوص ایجنڈا ہے، تاہم وہ اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

کرکوک شہر ایک ٹیلے پر آباد ہے، جس کے وسط میں ایک ویران قلعہ ہے۔ قلعے کے نیچے کوڑے سے اٹا اٹ دریا بہتا ہے۔ اس کے آس پاس بازار ہیں جس میں دکان دار اور گاہک مختلف زبانوں میں لین دین کرتے ہیں۔

شہر اور اس کے اردگرد کے میدانوں میں اور کوتاہ پہاڑیوں میں ترکمان، سنی، شیعہ، اور عیسائی سب بستے ہیں، جو کھیتی باڑی یا تیل کے کنوؤں میں کام کر کے زندگی بسر کرتے ہیں۔

صدام حسین نے کرکوک سے کردوں کو نکال باہر کیا تھا اور اس علاقے میں عربوں کو لا بسایا تھا۔ جب امریکی فوج نے یہاں حملہ کیا تو کردوں کی پیش مرگ تنظیم نے صدام کی فوج کا صفایا کرنے میں ہاتھ بٹایا تھا۔

اس کے بعد یہاں سے نکلے ہوئے کرد واپس آنا شروع ہو گئے اور رفتہ رفتہ کرکوک کو کردوں کے مستقبل کے آزاد ملک کا دارالحکومت بنانے کی باتیں ہونے لگیں۔

ایما سکائی سابق برطانوی عہدے دار ہیں جنھوں نے امریکی قبضے کے بعد یہاں کا انتظام سنبھالا تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’عربوں کو ایسا لگا کہ ان کی دنیا راتوں رات الٹ گئی ہے۔ ان کی نوکریاں جاتی رہیں، انھیں فوج اور پولیس سے نکال دیا گیا اور کرد اور امریکی ان کے حکمران بن بیٹھے۔ انھیں محسوس ہوتا تھا جیسے ان پر دو قومیں قابض ہیں، امریکی اور کرد۔‘

امریکیوں کا خیال ہے کہ کرکوک کو پیش مرگ، شیعہ عربوں کی اکثریت پر مشتمل عراقی فوج، اور سنی عرب جنگجوؤں کے سہ جہتی اشتراک سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم جنرل قادر کے چھاپوں کے درمیان بداعتمادی کی علامات نظر آتی ہیں۔ کرد مقامی سنی جنگجوؤں سے اپنے منصوبے اکثر چھپا کر رکھتے ہیں۔

جب امریکی چلے گئے تو کردوں نے عراقی فوج کے ساتھ لڑنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب جب سنی جنگجوؤں کو بغداد کی طرف سے مالی امداد ملنا بند ہو گئی تو وہ بھی تتربتر ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرکوک پر امریکی قبضے کے بعد یہاں کرد جنگجوؤں کا خاصا عمل دخل ہو گیا تھا

سہ جہتی اشتراک کا شیرازہ بکھر گیا، اور پھر پورا عراق ہی تین ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

جنرل قادر کہتے ہیں کہ وہ کرکوک کے تمام شہریوں کے تحفط کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے اپنے تحفظ کا معاملہ خاصا ڈانواں ڈول ہے۔

انھوں نے شہر کے وسط میں چہل قدمی کرتے ہوئے کہا: ’مجھے یہاں آئے ہوئے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ کاش یہاں آنا محفوظ ہو تاکہ ہم یہاں بار بار آ سکیں۔‘

اپنے ممکنہ قاتلوں سے خدشے کے پیشِ نظر جنرل قادر نے اپنی چہل قدمی مختصر کر دی اور گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔ ان کا اگلا مشن رات کو دولتِ اسلامیہ کے ساتھ گولیوں کا ایک اور تبادلہ ہے۔

اسی بارے میں