افغانستان میں بہادری، ملکہ نے تمغہ واپس لے لیا

Image caption سنہ دو ہزار چودہ میں غیر ملکی فوجیں افغانستان سے واپس جا رہی ہیں

برطانیہ کے ایک سابق فوجی کو افغانستان میں بہادری کے ساتھ اپنا فرض پورا کرنے کے لیے دیاگیا ’ملٹری کراس ‘ پانچ سال کی تحقیقات کے بعد واپس لے لیا گیا ہے۔

میجر رابرٹ آرم سٹرانگ کو یہ تمغہ لڑائی کے دوران انتہائی بہادری اور محتاط انداز میں اپنے زخمی ساتھی فوجیوں کی جان بچانے کے لیے دیا گیا تھا۔

تاہم ان دعوں کے بعد اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی کہ یہ تمغہ دینے کے لیے جو تفصیلات بیان کی گئی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے جب ملکہ نے کسی فوجی سے اتنا بڑا اعزام یا تمغہ واپس لیا ہو۔

اس خبر کی تصدیق سرکاری نوٹس جاری کرنے والے میگزین لندن گیزیٹ میں کی گئی ہے۔

جمعہ کو شائع ہونے والے نوٹس میں ملکہ نے ہدایت دی ہے کہ چھ مارچ سنہ 2009 میں رابرٹ مائیکل آرم سٹرانگ کو دیا جانے والا تمغہ واپس لے لیا جائے۔

آرم سٹرانگ کو انتہائی خفیہ دستاویز اپنے گھر پر رکھنے پر دو سال قبل فوج سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

ملٹری پولیس نے ان کے گھر سے فوجی اسلحہ بھی برآمد کیا تھا۔

سنہ 2012 میں کولچیسٹر کی فوجی عدالت نے کہا تھا کہ انتہائی خفیہ دستاویز اور فوجی اسلحہ گھر رکھ کر آرم سٹرانگ نے لاپرواہی اور’ غیر ذمہ دارنہ رویے ‘ کا مظاہرہ کیا ہے جس سے کسی کی جان کو بھی خطرہ لا حق ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد آرم سٹرانگ کو دو سال کے لیے فوج سے معطلی اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں