فلسطینیوں کو مبہم سی امید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطین کے دو ریاستی حل کے بارے میں آہستہ آہستہ بین الاقوامی رائے ہموار ہو رہی ہے

اس سال موسم گرما میں غزا میں اسرائیلی جارحیت سے ایک مرتبہ پھر مسئلہ فلسطین بین الاقومی سفارت کاری اور ذرائع ابلاغ کی توجہ مرکز بن گیا۔

لیکن ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی دنیا بھر کی توجہ جلد ہی اس مسئلہ سے ہٹ گئی۔ جیسے ہی چھبیس اگست کو ایک طویل المدتی معاہدے پر دستخط ہوئے دنیا سب کچھ بھول بھال کر اپنے کاموں میں لگ گئی۔ خطے میں ریاستِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرے نے ذرائع ابلاغ کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔

فلسطینی حکام کو امید ہےکہ آنے والے دنوں میں کچھ ایسے واقعات ظہور پذیر ہوں گے جن کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر مسئلہ فلسطین دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لے گا۔

اتوار کو قاہرہ میں امداد دینے والے ملکوں کی کانفرنس میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس غزا کی تعمیر نو کے لیے چار ارب ڈالر کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔

اس کے ایک دن بعد سوموار کو برطانوی پارلیمنٹ میں اس سوال پر رائے شماری ہونے والی ہے کہ کیا برطانوی حکومت کو سنہ 1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ فلسطین کو ایک علیحدہ آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے۔

اسی مہینے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے یہ مطالبہ رکھے جانے کا امکان ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کے لیے ایک حتمی تاریخ مقرر کرے۔

Image caption فلسطینی اتھارٹی اس مسئلہ کو ایک مرتبہ بھر جرنل اسمبلی میں اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے

گو کہ ان دونوں اقدامات کی علامتی حیثیت ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں لیکن فلسطینیوں کو توقع ہے کہ ان اقدامات سے اسرائیل پر سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھے گا جو غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی آباد کاری پر تلہ ہوا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی طرف سے یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع غیر قانونی اقدام ہے لیکن اسرائیل بین الاقوامی قانون کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ دو ریاستی حل صرف اور صرف دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پرامن مذاکرات کا سلسلہ اس سال اپریل میں منقطع ہو گیا تھا۔

غزہ میں اسرائیل کی بے دریغ بمباری سے ہزاروں تباہ شدہ گھروں اور سماجی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر کی فوری ضرورت کا ہر کوئی اعتراف کرتا ہے لیکن اس سلسلے میں بین الاقوامی امداد سست روی کا شکار ہے۔

جمعرات کو فلسطین کے وزیر اعظم رامی حمداللہ نے بین الاقوامی امدادی اداروں اور ملکوں کی کانفرنس سے قبل فلسطین کی کابینہ کا ایک اہم اجلاس طلب کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل کی بے دریغ بمباری سے ہزاروں کی تعداد میں رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں

کابینہ کا یہ اجلاس بلانے کا مقصہ یہ پیغام دینا تھا کہ حماس اور فتح کی مشترکہ حمایت سے قائم ہونے والی نئی حکومت موثر طور پر کام کر رہی ہے۔

یہ نئی حکومت چار ماہ قبل قائم کی گئی تھی جس نے غرب اردن میں محمود عباس کی سربراہی میں قائم فتح کی انتظامیہ اور غزہ میں حماس کی سربراہی میں قائم انتظامیہ کی جگہ لی ہے۔

اسرائیل اور اس کے بعض مغربی اتحادی حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں اور وہ نہیں چاہیں گے کہ وہ تعمیر نو کے لیے دیے جانے والے فنڈ کو ہاتھ لگائے۔

واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جن پاسکی نے کہا کہ غزہ کے مستقل اور پائیدار حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا مکمل اختیار سنبھال لے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ماہرین پر مشتمل اس نگران حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور اس اجلاس کو صحیح سمت میں مثبت قدم قرار دیتے ہیں۔

گو کہ اسرائیل نے فلسطینی دھڑوں میں مفاہمت کو مخالفت کی تھی اور اسے پرامن مذاکرات کے سلسلے میں تعطل کی ایک وجہ قرار دیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں اس نے نئی فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو اسرائیل نے فلسطینی وزرا کو یہودیوں کے تہوار اور عوامی تعطیل کے دن غرب اردن سے ایریز کے راستے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے ایک معاہدے کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں عمارتی ساز و سامان درآمد کرانے پر پابندیوں کو نرم کرنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کار اور محمود عباس کے وفادار دستے اس ساز و سامان کی ترسیل و تقسیم کی نگرانی کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ساز و سامان حماس کے جنگجوؤں کے ہاتھ نہیں لگے اور وہ اسے سرحد کے آپار سرنگیں بنانے کے لیے استعمال نہیں کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غزہ پر حملے میں اسرائیل نے ہر قسم کے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا

غزہ میں انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی فراہی کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں لیکن فلسطین اور اسرائیل کے اصل مسئلہ کے حل کے لیے کی جانے والی کوششیں کافی پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔

فلسطینوں کا خیال ہے کہ ایک وسیع الابنیاد معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں غرب اردن، غزہ اور مشرقی بیت المقدس پر مبنی ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مسئلہ صرف اور صرف بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

رواں ہفتے سویڈن نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کر لے گا۔ برطانوی پارلیمان میں 13 اکتوبر کو حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں ووٹنگ سے قبل اعلیٰ فلسطینی اہلکار ہنان اشروی نے فلسطینی حکمت عملی کی وضاحت کی۔ انھوں نے راملہ میں برطانوی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم قطعی طور پر اس بات کو رد کرتے ہیں کہ فلسطینی خود مختاری اسرائیل کی منظور پر منحصر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ: ’ہماری آزادی بین الاقوامی قانون کے مطابق ہمارا حق ہے اور وقت آ گیا کہ آزادی اور انصاف کا بول بالا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ تاریخی طور پر فلسطین کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے کہ کیوں کہ سنہ 1920 سے لے کر 1948 برطانوی فوج کو موجودہ اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا اختیار حاصل تھا۔

سنہ 2012 میں اقوام متحدہ کی جرنل اسمبلی میں 138 ملکوں نے فلسطین کو غیر رکن مبصر ملک کا درجہ دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے ہوئے تھے۔

اس سے قبل اسرائیل کے قریبی اتحادی ملک امریکہ نے سلامتی کونسل میں فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن تسلیم کرنے کی ایک کوشش کو ویٹو کرنے کی دھمکی دے کر روک دیا تھا۔

فلسطینیوں کو احساس ہے کہ ان کا سلامتی کونسل میں جانے کا منصوبہ پھر ناکام ہو جائے گا لیکن انھیں امید ہے کہ وہ اس طرح اپنی علیحدہ ریاست کے لیے بین الاقوامی حمایت کا مظاہرہ کر سکیں گے۔

ایک قرار داد کے مسودے میں اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 26 نومبر سنہ دو ہزار سولہ تک تمام مقبوضہ علاقوں سے نکل جائے اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی آبادی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی مبصر تعینات کیے جائیں۔

فلسطین کا ایک متبادل منصوبہ جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو روم کے قانون پر دستخط کرنے کا ہے تاکہ وہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت چارہ جوئی کر سکیں۔

یہ دونوں اقدام فلسطینی اتھارٹی کو مدد دینے والے ملکوں اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنیں گے۔ اس طرح مسئلہ فلسطین کو بین الاقوامی توجہ حاصل ہو گی اور ممکنہ طور پر یہ مسئلہ پرامن حل کی طرف بڑھے گا۔

اسی بارے میں