کوبانی میں اب بھی 700 افراد پھنسے ہوئے ہیں: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی دی مسٹورا کا کہنا ہے کہ صرف ایک پتلی سی گزرگاہ کے علاوہ کوبانی حقیقتاً دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے محاصرے میں ہے

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصي ایلچی نے متنبہ کیا ہے کہ شامی سرحدی شہر کوبانی میں ابھی بھی 700 افراد پھنسے ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر معمر افراد ہیں۔

خصوصی ایلچی سٹیفان مسٹورا نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ رضاکاروں کو شام جانے کی اجازت دے تاکہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے شہر کا دفاع کیا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ نے شہر میں کرد ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے، تاہم شام میں ایک کرد اہلکار نے اس کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین ہفتوں سے کوبانی دولت اسلامیہ اور کرد باشندوں کے بیچ جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے اور جاری جنگ کی وجہ سے لاکھوں شامی باشندے جن میں اکثریت کردوں کی ہے وہ وہاں سے پڑوسی ملک ترکی بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ترکی نے ابھی تک اپنی سرزمین سے دولت اسلامیہ کے خلاف کسی زمینی کارروائی کو خارج از امکان رکھا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ کرد افواج کا کہنا ہے کہ انھیں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پیچھے ہٹانے کے لیے مزید اسلحے اور گولہ بارود کی فوری ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کی برسراقتدار پارٹی کے نائب چیئرمین کا کہنا ہے کہ کوبانی میں دو دہشت گرد گروہوں کے درمیان جنگ جاری ہے

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے گذشتہ جمعرات اور جمعے کو کوبانی کے جنوب مشرق اور مشرقی شام کے دیر الزور میں تازہ حملے کیے ہیں۔

کوبانی سے کرد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نصف گھنٹے کے درمیان چار فضائی حملے میں شہر کے مغربی علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دی مسٹورا کا کہنا ہے کہ صرف ایک پتلی سی گزرگاہ کے علاوہ کوبانی ’حقیقتاً‘ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ’محاصرے‘ میں ہے اور سینکڑوں معمر شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ابھی بھی دس سے 13 ہزار افراد اس کے قرب و جوار میں جمع ہیں۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر شہر دولت اسلامیہ کے قبضے میں آ جاتا ہے تو ’عین ممکن ہے کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکہ نے کہا ہے کہ جمعرات اور جمعے کو کوبانی شہر پر چار فضائی حملے کیے گئے

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ دوسرا سریبرینیکا نہیں دیکھنا چاہتا جہاں ہزاروں مسلمان مرد اور لڑکوں کو بوسنیا کی سربیائی افواج نے بوسنیائی جنگ کے دوران سنہ 1995 میں قتل کر دیا تھا۔

جمعے کو جنیوا میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہم ترکی کے حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کم از کم رضاکاروں کو وہاں جانے اور وہاں جاری دفاعی آپریشن کو سازوسامان فراہم کرنے کی اجازت دیں۔‘

انھوں نے ترکی سے امریکی قیادت والے اتحاد سے تعاون کرنے کی بات بھی کہی تاکہ کوبانی میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کردوں کا کہنا ہے کہ انھیں فوری طور پر اسلحے اور گولہ بارود کی سخت ضرورت ہے

لیکن ترکی کی برسراقتدار جماعت اے کے پارٹی کے نائب چیئرمین یاسین اختے نے جمعے کو بی بی سی کو بتایا کہ کوبانی کے تمام شہریوں نے شہر چھوڑ دیا ہے اور وہ پہلے سے ہیں ترکی میں ہیں۔

انھوں نے کہا: ’کوبانی میں کوئی سانحہ نہیں ہونے والا ہے جیسا کہ پی کے کے (کردستان ورکرز پارٹی) کے دہشت گرد چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں۔ وہاں دو دہشت گرد گروہوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔‘

ترکی عسکری طور پر اس تنازعے میں شامل نہیں ہونا چاہتا کیونکہ اسے کردوں کو مسلح کرنے کے ضمن میں خدشات ہیں۔ ترکی کو پہلے ہی کرد اقلیت سے طویل خانہ جنگی کا تجربہ ہے۔

اسی بارے میں