جو یاد آئے، تڑکا لگاؤ اور لکھ مارو

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسامہ ہوں یا اوباما، عراق ہو یا پاکستان، ان سب پر جو بھی یاد آ جائے، بات نئی ہو یا پرانی اس میں تھوڑا سا تڑکا لگاؤ اور لکھ مارو۔ کتاب بكےگي تو ابھی، دو برس کے بعد لكھوگے کوئی نہیں پوچھےگا

بچپن میں اپنے چھوٹے سے شہر میں رکشہ پر بیٹھے، رومال لپیٹے ہوئے مائیک پر زور زور سے آواز لگا کر، ماچس بیچنے والے اس آدمی کی وہ دھن مجھے ابھی بھی یاد ہے۔ دمے سے جكڑي اپنی کھڑکھڑاتی آواز میں وہ چلاتا تھا ’ماچس کی ہے لوٹ، لوٹ سکے تو لوٹ نہیں تو رکشہ جائےگا چھوٹ‘۔

مجھے لگتا ہے کچھ اسی طرح کی آواز ان دنوں صدر اوباما کی انتظامیہ میں کام کر چکے اہلکاروں کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ لوٹ ماچس کی نہیں اوباما کی ہے۔ رکشہ چھوٹنے میں صرف دو سال اور رہ گئے ہیں اور سب کو پتہ ہے کہ اس موقعے پر چوکا نہیں لگایا تو پھر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

تو اوباما کے کام کرنے یا پھر کسی حد تک کام ٹالنے کے انداز پر، ان کی خارجہ پالیسی پر، ان کی سیاست پر کتابیں شائع کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ پہلے سابق وزير دفاع رابرٹ گیٹس، پھر وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور اب سی آئی اے کے سابق سربراہ اور 2013 تک وزير دفاع رہ چکے لیون پنیٹا۔ سب ایک ہی منتر پر کام کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اوباما کے وائٹ ہاؤس سے نکلنےسے پہلے، بس لکھ ڈالو۔

اسامہ ہوں یا اوباما، عراق ہو یا پاکستان، ان سب پر جو بھی یاد آ جائے، بات نئی ہو یا پرانی اس میں تھوڑا سا تڑکا لگاؤ اور لکھ مارو۔ کتاب بكےگي تو ابھی، دو برس کے بعد لكھوگے کوئی نہیں پوچھےگا۔

کتاب کو اس طرح کا معصومیت کا جامہ پہنایا جاتا ہے کہ لگےجیسے لكھنے والے نے اپنے بارے میں لکھا ہے لیکن ہر صفحہ وائٹ ہاؤس کی طرف خنجر چلاتا ہوا نظر آتا ہے۔

ہٹ فارمولہ ہے ’مارو مگر پیار سے‘۔ لكھنے والا یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ اوباما کا مجھ سے بڑا کوئی خیر خواہ نہیں ہے اور ان کی بھلائی کے لیے ہی میں نے یہ کتاب لکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوباما ہلری کے بارے میں سوچتے ہوں گے ’ایک بار تم بن جاؤ صدر پھر میں بتاؤں گا کہ دنیا کیسے چلائی جاتی ہے‘

شام ہو، عراق یا پھر افغانستان، یہ سارے امور انہیں اہلکاروں کی کمان میں ہی سر درد بن کر ابھرے ہیں۔ اب یہ سب کے سب ایک ہی سُر میں الاپتے ہیں، ’ہم نے تو کہا تھا، کسی نے سنا ہی نہیں‘۔

فارمولے کی خاصیت یہ بھی ہے کہ اوباما کے علاوہ سب کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ریپبلكنز کو بن مانگے مصالحہ مل جاتا ہے، ٹی وی چینلز بغیر کچھ خرچ کیےگھنٹوں تک ایئرٹائم بھر لیتے ہیں۔ اخبار والوں کو اوباما کو معلومات فراہم کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر چٹكياں لینے کا موسم آ جاتا ہے۔

اور بیچارے اوباما دانت پیس کر رہ جاتے ہیں۔ کھل کر جواب دیں تو معاملہ اور طول پکڑے گا اور ٹی وی پر بحث لمبی چلے گی۔ بعض دیگر افراد کے ذریعے تھوڑی بہت سنا دی جاتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد کوئی اور خبر سامنے آئے اور ٹی وی چینلز کتاب کی بات کرنا بند کر دیں۔

مجھے تو لگتا ہے کہ اوباما سوچ رہے ہوں گے کہ ’دو برس جلدی سے گزریں تو میں بھی کتاب لکھوں اور ان سب منافقوں کے پول كھولوں‘۔ ہلری کے بارے میں سوچتے ہوں گے ’ایک بار تم بن جاؤ صدر پھر میں بتاؤں گا کہ دنیا کیسے چلائی جاتی ہے‘۔

اب تو انہیں یہ ڈر بھی ستاتا ہوگا کہ کہیں کل کے دن جان کیری، چک ہیگل اور جو بائیڈن مستعفی نہ ہوجائیں۔ کیونکہ استعفیٰ دیتے ہی ان کا بھی کام وہی ہوگا، کتاب لکھ ڈالو۔

سنا ہے دسمبر میں اوباما اپنی کابینہ میں کچھ تبدیلی کرنے والے ہیں۔ اس بار بہتر ہوگا وہ پہلے ہی حلف نامہ لکھوا لیں کہ اگلے دو برس تک ملازمت میں رہو یا مت رہو، کتاب نہیں لکھ سکتے۔

مجھے لگتا ہے مودی جی کو ایسے موسم میں اوباماجي کے لیے بطور تحفہ گیتا اور گاندھی جیسی کتابیں نہیں لانی چاہیےتھیں۔ ’اچھا صلہ دیا تونے میرے پیار کا‘ ٹائپ کے گانوں کی ریکارڈنگ لے کر آتے تو شاید اوباما کو کچھ سکون ملتا۔

اسی بارے میں