نور جہاں کے ہیرے، میرا کی ’بریک‘

تصویر کے کاپی رائٹ tapu javeri

مشہور پاکستانی فوٹوگرافر ٹپّو جویری مشہور جوہری حسن جویری کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے فیشن فوٹوگرافی میں اپنا نام پیدا کیا۔ بی بی سی اردو کی فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے ٹپّو جویری نے ان پانچ گانوں کے بارے میں بات کی جن کا ان کی زندگی پر اثر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ tapu javeri

ٹپّو نے بتایا کہ جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ سکول جاتے تھے تو وہ کے ایل سہگل کے گانے سنتی تھیں جو ٹپّو کو بالکل پسند نہیں تھے۔

لیکن ان کا پہلا یاد گار گانا حبیب ولی محمد کا ’آج جانے کی ضد نہ کرو‘ ہے جس کے ساتھ ٹپّو کی بڑی حسین اور خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہر صبح ان کی والدہ انھیں سکول لے جانے سے پہلے چڑیا گھر لے کر جاتی تھیں جہاں وہ دونوں مل کر مور دیکھتے تھے۔

ٹپّو نے بتایا کے دوسرا گانا میڈم نور جہاں کا ’سانو نہر والے پل تے بلا کے‘ ہے جو انھیں نور جہاں کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔

جب ٹپّو فیشن فوٹوگرافی میں آئے اور نور جہاں کی تصویر کھینچ رہے تھے تو انھوں نے ٹپّو سے ان کا نام پوچھا۔ جب انھیں پتہ چلا کہ ٹپّو جوہری حسن جویری کے بیٹے ہیں تو انھوں نے فوراً ان کے والد سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ جب انھوں نے اپنے والد کو فون کیا اور نور جہاں نے فون لیا تو انھوں نے ٹپّو کے والد سے فوراً کہا: ’حسن میں مر رہی ہوں، مجھے ڈائمنڈ دلوا دو!‘

تصویر کے کاپی رائٹ tapu javeri

ٹپّو نے بچپن میں اپنی ایک آیا کے بارے میں بتایا جو ان کے ساتھ بہت فلمیں دیکھتی تھیں اور اس لیے آج بھی انھیں پاکستانی فلموں کا بہت شوق ہے۔ ٹپّو کے ماموں اور چچا دونوں فلم انڈسٹری میں اداکار تھے۔ ٹپّو کے بقول انھوں نے ایکٹر بننے کا کبھی نہیں سوچا لیکن آفرز بہت آئی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ انڈیا گئے تھے جہاں جیکی شروف نے بھی انھیں اداکاری کی آفر کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tapu Javeri

ٹپّو نے اداکارہ میرا کے ساتھ اپنے ایک مشہور انٹرویو کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ بدقسمتی سے میرا نے وہ انٹرویو انگریزی میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں وہ ’سکرین سیور موڈ‘ میں آ گئے تاکہ وہ اپنی شکل پر کسی بھی قسم کے جذبات کا اظہار نہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Meera

ٹپّو نے اپنا تیسرا گانا طاہرہ سید کا ’رات نشیلی ہے‘ بتایا جو انھیں 70 کی دہائی کی پاکستانی فلموں کی یاد دلاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس زمانے کی پاکستانی فلمیں بہت پسند تھیں۔ ٹپّو کا کہنا ہے کہ اس گانے میں ایک ’کلب فلیور‘ تھا جو انھیں بہت پسند ہے اور ’سوسائٹی گرل‘ ان کی پسندیدہ فلم ہے۔

اپنا چوتھا گانا ٹپّو نے بھارتی گلو کار شوبھا مدگل کا صوفیانہ نغمہ ’بس تو ہی‘ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے سنا ہے کہ یہ گانا ’رابعہ بصری‘ سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا فوٹوگرافی کا جوش بھی تصوّف سے متاثر ہے۔ ٹپّو نے کہا کہ انھیں تصوّف بہت پسند ہے اور وہ اکثر مزاروں پر جا کر وقت گزارتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ tapu javeri
تصویر کے کاپی رائٹ Tapu Javeri

ٹپّو نے اپنے پانچواں پسندیدہ گانا نئے پاکستانی بینڈ ’موج‘ کا ’آواز‘ چنا۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت موج کو اپنے کور پر ایک لڑکی کی تصویر چاہیے تھی لیکن کم پیسوں کی وجہ سے ٹپّو کو مجبوراً بینڈ کے ارکان کو ہی چوڑیاں پہنا کر ان کی تصاویر لینا پڑیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tapu Javeri

ٹپّو نے کہا کہ ہر آرٹسٹ موسیقی میں ضرور گم ہوتا ہے کیونکہ موسیقی میں وہ حدیں نہیں ہوتی ہیں جو پینٹنگ اور فوٹوگرافی میں پائی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ گا سکتے تو وہ فوٹوگرافر کے بجائے یقیناً گلوکار ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ tapu Javeri

اسی بارے میں