غزہ کی تعمیر نو کے لیے نئی امریکی امداد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیلی فوجوں کی شدید بمباری کے بعد غزہ کے کچھ محلے زلزلہ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

امریکہ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی نئی مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی حکام نے قاہرہ میں عالمی امدادی برادری کی کانفرنس میں اپیل کی ہے کہ اسے حالیہ جنگ سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے چار ارب ڈالر درکار ہیں۔

اس جنگ کے دوران غزہ کے کم از کم ایک لاکھ رہائشی بےگھر ہو گئے تھے اور علاقے کی زیادہ تر سرکاری عمارتیں اور دیگر سہولیات تباہ ہو گئی تھیں۔

26 اگست کو ایک امن معاہدے کے نتیجے میں ختم ہونے والی سات ہفتوں کی اس جنگ میں 2,100 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ دوسری جانب اسرائیل کے 66 فوجی اور سات عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کو قاہرہ کانفرنس کے موقع پر کہا کہ جوں جوں موسم سرما قریب آ رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی فوری مدد کی جائے۔ ’عزہ کے لوگوں کو ہماری فوری مدد کی ضرورت ہے۔ کل نہیں، اگلے ہفتے نہیں، بلکہ غزہ کو یہ مدد ابھی چاہیے۔‘

جان کیری کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن کے عہد کے علاوہ مسئلے کے باقی تمام حل ’بینڈ ایڈ فِکس‘ یا عارضی ہوں گے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی میزبانی میں ہونے والی قاہرہ کانفرس میں جان کیری کے علاوہ اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے بھی شرکت کی۔

ان کے علاوہ درجنوں دیگر ممالک کے مندوب بھی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں جن میں خلیجی ریاستیں اور یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔امید ہے کہ امریکہ اور خلیجی ریاستیں غزہ کی تعمیر نو کے لیے رقوم مختص کریں گی۔

غزہ میں موجود نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجوں کی شدید بمباری کے بعد غزہ کے کچھ محلے زلزلہ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے کے دوران غزہ سے پھینکے جانے والے راکٹوں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

فلسطینی علاقوں کے لیے یورپی یونین کے مندوب جان گاٹ رٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ کا دیرینہ حل فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک سیاسی معاہدہ ہی ہے۔‘

گزشتہ چھ برسوں میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سات ہفتوں کی جنگ میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوگے

قاہرہ سے بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کا انحصار اس پر ہے کہ آیا اسرائیل تعمیراتی سامان غزہ لائے جانے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔

یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے کیونکہ ماضی میں غزہ میں پہنچنے والا سیمنٹ حماس نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرنگیں بنانے میں استعمال کیا تھا۔

غزہ کی پٹی اسرائیل اور مصر کے درمیان پھنسا ہوا وہ علاقہ ہے جوگزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوا ہے۔

اسرائیل نے سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران غزہ پر قبضہ کر لیا تھا اور یہاں سے اس نے اپنے فوجی اور آباد کاروں کو سنہ 2005 میں نکالا تھا۔اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس کے ان اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ غزہ پر اس کا قبضہ ختم ہو چکا ہے، لیکن غزہ کے زیادہ تر سرحدی علاقوں، اس کے پانی اور اس کی فضا پر اب بھی اسرائیل کا کنٹرول ہے۔ غزہ کی جنوبی سرحد مصر کے کنٹرول ہیں ہے۔

اسی بارے میں