ایبولا ہم سے دوڑ جیت رہا ہے: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ایبولا سے مرنے والوں کی تعداد 4447 ہو گئی ہے

اقوام متحدہ میں ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے مقابلے میں دنیا پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ رواں سال دسمبر تک اس کے ہزاروں نئے کیسز سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

مشن کے سربراہ اینتھنی بین بری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’وہ (ایبولا) ہم سے تیز دوڑ رہا ہے اور ریس جیت رہا ہے۔‘

دریں اثنا امریکی ریاست ٹیکسس میں ایک نرس کے ایبولا کی زد میں آنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ وہ اس وائرس سے کیسے متاثر ہوئی۔

عالمی صحت کی تنظیم ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ مہلک وائرس ایبولا سے مرنے والوں کی تعداد 4447 ہو گئی ہے۔

تنظیم کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں مغربی افریقی ممالک میں ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی صدر اوباما نے کہا کہ ایبولا کے خطرات کو روکنے کے لیے ’دنیا مجموعی طور پر بہت زیادہ کوششیں نہیں کر رہی

ڈبلیو ایچ او کے نائب ڈائریکٹر جنرل بروس ایلوارڈ نے متنبہ کیا ہے کہ ’اگر ایبولا کی روک تھام کے لیے کوششوں میں تیزی نہیں لائی گئی تو آنے والے ہفتوں میں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد دس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا ہے کہ بعض علاقوں میں اس کے انفیکشن کے پھیلاؤ کی رفتار میں کمی آئی ہے۔

اس وائرس سے سب سے زیادہ مغربی افریقی ممالک سیئرا لیون، لائبیریا اور گنی متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں اس کا پھیلاؤ دسمبر سنہ 2013 میں شروع ہوا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابھی مجموعی طور پر دنیا بھر میں اس سے متاثر افراد کی تعداد 8914 ہے جو اس ہفتے کے آخر تک نو ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔

منگل کو امریکی صدر اوباما نے کہا کہ ایبولا کے خطرات کو روکنے کے لیے ’دنیا مجموعی طور پر بہت زیادہ کوششیں نہیں کر رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایبولا کے لیے امریکہ کے ایئرپورٹ پر سکریننگ کا نظام تیار کیا جا رہا ہے

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اور اٹلی کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایبولا کے بحران پر بات کریں گے۔

مسٹر بین بری نے منگل کو مغربی افریقہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ اگر ایبولا کو ابھی نہیں روکا گیا تو دنیا کے سامنے بالکل ہی نئے حالات ہوں گے جن سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: ’اگر ہم اس بحران سے آگے نہیں نکلے اور اپنے ہدف تک نہیں پہنچے اور اگر ایبولا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا جیسا کہ بعض ماہرین نے پیش گوئی کی ہے، تو ہمارے پاس جو منصوبہ ہے وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘

انھوں نے اس کے علاج کے لیے مراکز قائم کرنے اور طبی عملہ تیار کرنے کے لیے مزید امداد کی اپیل کی۔

اسی بارے میں