خواتین ملازمین کے لیے بیضے منجمد کروانے کی سہولت

Image caption ایپل اور فیس بک اپنی خواتین ملازموں کو کریئر جاری رکھنے اور بچے بعد میں پیدا کرنے کی سہولت دے رہی ہیں

فیس بک اور ایپل جیسی کمپنیاں اپنی خواتین ملازمین کو کمپنی کے خرچ پر ان کے بیضے منجمد کرنے کی پیشکش کر رہی ہیں۔

فیس بک نے اس سال کے آغاز سے امریکہ میں رہنے والی اپنی ملازمین کو یہ سہولت فراہم کرنا شروع کی ہے۔

ایپل نے بھی جنوری 2015 سے اس سروس کا آغاز کرنا ہے۔

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ وہ باصلاحیت خواتین کو اپنے ہاں کام کرنے پر مائل کر سکیں تاکہ انھیں اپنی پروفیشنل زندگی اور ماں بننے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔

ایپل نے ایک بیان میں کہا: ’ہم خواتین کو مزید سہولیات فراہم کریں گے اور اس سلسلے میں زچگی کی توسیعی رخصت کی پالیسی بھی لاگو کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ’کرائیو پریزرویشن (بیضوں کو منجمد کرنا) اور بیضوں کی سٹوریج کی سہولت بھی دے رہے ہیں۔‘

ایپل اور فس بک امریکہ میں رہنے والی اپنی ملاز مین کے صحت کی بیمہ پالیسوں میں 20 ہزار ڈالر ڈالنے کی پیشکش کر رہی ہے تاکہ اگر وہ چاہیں تو اپنے بیضے نکلوا کر منجمد کروا سکیں۔

ایپل نے ایک بیان میں کہا: ’ہم خواتین کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے سب سے اہم وقت میں کام بھی کر سکیں اور بچوں کو بھی جنم دے سکیں۔‘

جینیفر ٹائی ایک ٹیکنالوجی کمپنی ’گلو‘ کی مارکیٹنگ کی سربراہ ہیں۔ گلو خواتین کو اپنی تولیدی صحت کو کنٹرول کرنے کی سروس پیش کرتی ہے۔ جینیفر ان نئی پالیسیوں کا خیر مقدم کرتی ہیں:

’بیضے منجمد کرنے سےخواتین کو مزید کنٹرول ملتا ہے۔ جب میں 30 برس کی ہوئی تو مجھے ایسے لگنا شروع ہو گیا جیسے میری عمر کی سوئی مسلسل آگے چل رہی ہے لیکن میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں اس سے کیسے نپٹوں۔ یہ کمپنیاں لائقِ تعریف ہیں۔‘

تاہم دیگر مبصرین نے تجویز دی ہے کہ ان کمپنیوں کو اس پالیسی کے بجائے نئے والدین کے لیے سہولیات اور نوکری میں لچک کی پیش کش پر توجہ دینی چاہیے۔

اسی بارے میں