سعودی عرب مشکلات کے گھیرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی فضائیہ شام میں داعش پر حملوں میں مصروف ہے

سعودی عرب برس ہا برس سے تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے اور مغرب کا قریبی اتحادی بھی۔ اب سعودی عرب کو اپنی سرحدوں پر بڑے مسائل کا سامنا ہے اور ان مقابلہ کرنے کے لیے اس کو اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ خیلجی ممالک کے امور کے ماہر نیل پیٹرک کی تحریر۔

اس سال ستمبر میںدولت اسلامیہ یا داعش کے خلاف بنائے گئے امریکی اتحاد میں شامل ہونے کےبعد سے اب تک سعودی عرب ان سنی جنگجوؤں کے خلاف ایک غیر معمولی فوجی کارروائی اور ان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی’ پی آر‘ مہم میں ملوث ہے۔

دریں اثنا اس کی جنوبی سرحدوں پر یمن میں اس کے حامیوں کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے جہاں انھیں ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپوں کا سامنا ہے۔

سعودی فضائیہ کے لڑاکا طیارے داعش کے شام میں ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں اور سعودی حکومت جو عام طور پر بڑی احتیاط سے کام لیتی ہے اس کی بڑے زور شور سے تشہیر کر رہی ہے۔ لیکن اس میں سعودی عرب کے لیے بہت سے خطرات بھی پنہاں ہیں۔

کچھ سعودی شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’جو مسلمان کا قتل کرے وہ مسلمان نہیں رہتا۔‘ سعودی لڑاکا ہوا بازوں کی تصاویر جن میں ایک شہزادے کے بیٹے کی تصویر بھی شامل ہے، ان کی لعن طعن کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption سعودی عرب پر مشکلات کے سائے گہرے ہو رہے ہیں

سعودی شہریوں کی اکثریت نے اپنے ملک کے سرگرم کردار کو سراہا ہے۔ اس امر کے باوجود کہ وہ اس جنگ میں غیر مسلمان ملک امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

لیکندولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں شامل کئی مغربی عناصر عراق میں بھی بمباری کر رہے ہیں جہاں سفاک اور توسیع پسند دولت اسلامیہ کے ساتھ عام سنی شہری بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔

بہت سے سعودی شہریوں اور حتی کہ حکومت کے بغص قریبی حلقوں کا بھی یہی خیال ہے کہ عراق اور شام میں سنی عرب علاقوں پر بمباری کرنا سعودی عرب کے مفاد میں نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سنی عرب علاقوں میں پائی جانے والی بے چینی کی وجہ سے ہی عراق میں دولت اسلامیہ وجود میں آئی ہے۔

کچھ سعودیوں کا خیال ہے کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین کی طرح شام میں صدر بشار الاسد کے مخالفین پر بمباری کر کے ایران کا کام آسان کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد صدر اسد اور اس کے قریبی حلقوں کے خلاف ہے۔ لیکن حقیقت میں نہ تو سعودی عرب اور نہ ہی اس کے مغربی اتحادی شامی حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

کشیدگی کے انگارے سلگ رہی ہے

صدر اسد داعش کے خلاف اپنی کارروائیوں کا خوب ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور داعش کو خلیجی ممالک کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کا اتحادی سمجھتے ہیں۔

اتحادیوں کی طرف سے کی جانے والے فضائی بمباری کا ہدف شام میں القاعدہ کے مقامی اتحادی النصرہ محاذ بھی ہیں۔ خلیجی حمایت یافتہ شامی باغی جنہوں نے سنہ دو ہزار تیرہ میں دولت اسلامیہ میں مدغم ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

النصرہ محاذ نے مبینہ طور پر قطر اور ترکی سے مدد حاصل کی تھی اور دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں فری سرین آرمی سے بھی تعاون کیا تھا۔

خلیجی ممالک کے حمایت یافتہ شامی اسلامی باغی جو داعش کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی فضائی بمباری کے حق میں نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات حال میں مشکلات کا شکار ہو گئے تھے

اس طرح سعودی عرب بمباری میں حصہ لے کر خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ داعش نے سعودی عرب کے وہابی عقیدے سے ہی جنم لیا ہے۔

سعودی حکومت کے قریبی لوگ اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے سعودی میں روائیتی طور پر امام یا بادشاہ کی اطاعت کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بغاوت شیعہ روایت ہے جو ایرانِ انقلاب اور عراق کی شیعہ جماعت دعوۂ کی تاریخ سے ظاہر ہے۔ وزیر اعظم حیدر عابدی اور سابق وزیر اعظم نوری المالکی کا تعلق اسی جماعت سے ہے۔

حقیقت میں شیعہ اور سنی دونوں فرقوں ہی میں چند ایک مثالوں کے علاوہ خاموشی اختیار کیے رکھنے یا تکیہ کرنے کی روایت بڑی مضبوط رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یمن میں سعودی عرب کے اتحادی کمزور ہو رہے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے ان اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو زبانی کلامی تو دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان ہی ملکوں سے داعش کو مدد بھی مل رہی ہے۔

ان کا استدلال ہے کہ انفرادی آزادیاں اور قانون کی حکمرانی ہی نظریاتی دلدل سے بچنے کا بہتریں طریقہ ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسد داعش اور النصرہ محاذ کے خلاف ایک حکمت عملی کے تحت نرم رویہ اختیار کیے ہوئے اور وہ فری سیرین آرمی اور حکومت کے اسلامی مخالفین کو ختم کر رہا ہے۔

عراق سعودی عرب کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے لیے ممنوعہ علاقہ ہے۔ دراصل سعودی عرب کا خیال ہے کہ یہ حکمت عملی عراق کو عربوں کی صفوں میں واپس لانے میں اُس کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

ایران کی پشت پناہی میں شیعہ ملیشیا کے لوگ عراق اور شام میں سنی عربوں کو ہلاک کر رہے خواہ وہ دولت اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا نہ ہوں۔ عراق کے ایک سابق اعلیٰ فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہی جنگجو دولت اسلامیہ کا خاتمہ کریں گے۔

سعودی عرب کو ایک انتہائی پیچیدہ صورت حال درپیش ہے۔ داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرنا غالباً اس کے قومی مفاد میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرق وسطی میں صورت حال بہت پیچیدہ ہے اور خطے کے ملکوں کے مفادات میں شدید ٹکراؤ ہو رہا ہے

یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت حوثی قبائل سے نمٹنے کی کوشش میں ہے۔ گو کہ ان کا عقیدہ ایران اور عراق کے شیعہ فرقے کے لوگوں کے عقیدے سے مختلف ہے لیکن پھر بھی انھیں ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔

سعودی عرب حوثیوں کی بغاوت کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا ہے لیکن عراق اور شام کی طرح یہاں بھی صورت حال بہت پیچیدہ ہے۔

سعودی عرب میں اہم حکومتی عہدوں پر تقرریاں وراثت کے حساب کتاب اور اہم عہدوں پر فائز لوگوں کی صحت کو مد نظر رکھا کر کی جاتی ہیں۔

یمن میں پیچیدگیوں میں ایک عنصر سعودی عرب کا اخوان المسلمون کو رد کرنا بھی ہے۔ مزید براں یمن میں سعودی عرب کے اتحادی کمزور ہو رہے ہیں اور مرکزی حکومت کی گرفت بھی کمزور پڑ رہی ہے جبکہ وہاں القاعدہ بھی ایک خطرہ ہے۔

سعودی عرب کے سامنے مشکلات بہت ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ اُس کا اتحاد داعش کی وجہ سے مضبوط ہوا ہے گو کہ اب امریکہ سعودی عرب کے درینہ حریف ایران کو بھی ناگزیر سمجھتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے اپنے پچھواڑے یمن میں حوثیوں کے ساتھ مفاہمت ناگزیر ہو چکی ہے۔ داعش کے ساتھ تو کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن عراق میں سعودی عرب کے لیے سمجھوتا کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا ہے اور اس پر امریکہ اور ایران کوبھی اعتراض نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں