مغرب میں ایبولا پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ APS
Image caption ابتدا میں ایمبر ونسن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی

عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں صحت کے مضبوط نظام کی وجہ سے ایبولا کی بڑی وبا پھوٹنے کا خطرہ بہت کم ہے۔

اس سے قبل امریکہ میں ایک اور نرس کے ایبولا سے متاثر ہونے کے بعد صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ میں اس وائرس کی وبا پھیلنے کا امکان بہت کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکیوں کے ایبولا میں مبتلا ہونے کے امکانات ’انتہائی کم‘ ہیں، لیکن مغربی افریقہ کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر آف سٹریٹجی کرسٹوفر ڈائی نے کہا کہ اگرچہ ایبولا کی وبا پھوٹ پڑنے کا ’خطرہ بہت سنگین‘ ہے لیکن ’ہمیں اطمینان ہے کہ امریکہ اور مغربی یورپ میں صحت کا نظام بہت مضبوط ہے، اس سے وہاں کسی بڑی وبا کا امکان بہت کم ہے۔‘

منگل کے روز 29 سالہ ایمبر ولسن کے اندر اس مرض کی علامات ظاہر ہوئیں۔ انھوں نے لائیبریائی شہری ٹامس ایرک ڈنکن کی علاج کیا تھا جو ایک ہفتہ قبل امریکی شہر ڈیلس میں ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دوسرے متاثرہ شخص نے بھی لائبیریا کے باشندے ٹامس ڈنکن کا علاج کیا تھا

نرسوں کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ ڈنکن کا علاج کرنے والے عملے کو پوری طرح تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور ان کے جسم کے بعض حصے کھلے تھے۔

70 سے زیادہ طبی عملے کے ان ارکان کی نگہداشت کی جا رہی ہے جو ہسپتال میں ڈنکن سے رابطے میں آئے تھے۔ اس کے علاوہ حکام ان 132 افراد کی نگرانی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے ونسن کے ساتھ جہاز میں سفر کیا تھا۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس پر قابو پانے کی دوڑ میں دنیا پیچھے رہ رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اب تک ایبولا سے دنیا بھر میں 4,447 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ ہلاکتیں مغربی افریقہ میں ہوئی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مزید ایسے 48 افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن کا لائبیریا کے باشندے ٹامس ڈنکن سے رابطہ ہوا تھا یا وہ ان کا علاج کرنے والوں میں شامل تھے۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکام نے 26 سالہ نرس نینا فام کے بارے میں بتایا تھا کہ انھیں یہ مرض ڈیلس کے ایک ہسپتال میں اس وقت لگا جب وہ لائبیریا کے باشندے ٹامس ڈنکن کا علاج کر رہی تھیں۔

منگل کو ہیلتھ پریسبیٹیریئن ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ نینا فام کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ٹیکسس کے محکمۂ صحت نے کہا ہے کہ منگل کو جب طبی عملے کے اس رکن کو بخار میں مبتلا دیکھا گیا تو انھیں فوراً الگ کر دیا گیا۔

محکمۂ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکام نے متاثرہ اہلکار سے فوری رابطہ کر کے ان تمام افراد کے بارے میں معلومات لی ہیں جن سے اس کا رابطہ رہا ہے اور جو ممکنہ طور پر اس وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں

اسی بارے میں