روس کی گیس اور یورپ کی سردیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپی ملک اپنی گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ روس سے گیس خرید کر پورا کرتے ہیں

سردی جیسے جیسے بڑھتی جائے گی، یوکرین میں گھروں کو گرم رکھنے اور اپنے کئی ہمسایہ ملکوں کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے گیس کی ڈیل کے لیے پریشانی بڑھ رہی ہے۔

روس نے حکومت اور روسی باغیوں میں کشیدگی کے بعد یوکرین کو گیس کی فراہمی جون میں معطل کر دی تھی۔ اب کچھ امید پیدا ہو چلی ہے فریقین کسی مفاہمت پر پہنچ جائیں۔

روس نے یوکرین کو گیس کی فراہمی کیوں معطل کی

روس نے اس سال جون کی سولہ تاریخ کو یہ شکایت کی تھی کہ یوکرین اپنے پانچ ارب سے زیادہ کے بقایاجات دینے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے بعد روس کی سرکاری کمپنی گیزپرام نے یوکرین کوگیس فراہم کرنے والے پائیوں کو بند کر دیا۔ گیزپرام نے تقریباً دو ارب ڈالر کی رقم فوری طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی روس سنہ 2006 میں قیمتوں میں تنازع پر اور سنہ 2008 اور 2009 کے موسمِ سرما میں ایسا کر چکا ہے۔ لیکن اس مرتبہ روس اور یورپی یونین میں یوکرین کے مستقبل کے بارے میں کھنچا تانی میں یہ تنازع حل کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

گیس کیوں اتنی اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یوکرین اس بحران سے پہلے اپنی گیس کی ضرورت کا پچاس فیصد روس سے پورا کرتا تھا۔ یورپی یونین کے کچھ رکن ملک مثلاً سلواکیا بھی اپنی سو فیصد ضرورت روس سے گیس خرید کر پوری کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یورپی یونین کے ملکوں کی گیس کی 23 فیصد ضروریات روس سے فراہم کی جانے والی سپلائی سے پوری ہوتی ہیں۔

روس کی گیس پائپ لائنیں یوکرین سے گزر کر ہی یورپی یونین کے ملکوں تک جاتی ہیں اور یورپی یونین کو فراہم کی جانے والی گیس کا 70 فیصد حصہ اس ہی پائپ لائن سے جاتا ہے۔

گو کہ روس نے حالیہ برسوں میں یوکرین سے بچنے کے لیے شمالی سٹریم اور جنوبی سٹریم منصوبے شروع کیے لیکن فی الحال دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔

کیا روس نے گیس کی فراہمی کے مسئلے کو یورکرین کے بحران سے الجھا دیا ہے؟

گیس کی سپلائی اور اس کی قیمتیں شروع ہی سے اس بحران کا ایک اہم عنصر رہی ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں یوکرین کے اس وقت کے صدر وکٹر ینوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کے ایک معاہدے کو آخری لمحات پر منسوخ کرنے کے چند ہفتے بعد روس سے گیس کے ریاعتی نرخوں پر فراہمی کے معاہدے پر دستخط کردیے تھے۔ یورپی یونین سے معاہدہ نہ کرنے پر ان کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

اس سال اپریل میں روس نے گیس کے نرخ میں 80 فیصد اضافہ کر دیا۔ ابتدائی طور پر یہ 268 ڈالر فی ہزار مربع میٹر سےبڑھا کر یہ 385 ڈالر فی مربع میٹر کر دی گئیں اور اس کے بعد اس میں مزید اضافہ کرکے 485 ڈالر کر دیا گیا۔ بظاہر یہ گیس پر برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کی وجہ سے کیا گیا۔

یوکرین کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے گو کہ گیز پرام بلوں کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتی رہی اور اس صورت میں گیس کی قیمتوں میں کمی کرنے کی پیش کش بھی کرتی رہی ہے۔

لیکن گزشتہ ماہ تشویش اس وقت بڑھ گئی جب پولینڈ، سلواکیا اور جرمنی کو گیس کی سپلائی پراسرار طور پر اچانک کم ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کو بعض یورپی ملک روس سے خریدی ہوئی گیس ریورس فلو ٹیکنالوجی سے فراہم کر رہے ہیں

اس کو روس کی طرف سے ایک پیغام کے طور پر دیکھا گیا کہ یورپی یونین معاشی پابندیوں میں اضافہ نہ کرے اور روس سے ملنے والی گیس کو یوکرین کو نہ دیا جائے۔

کیا اس تنازع کی وجہ سے یورپی شہری سردی سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

اس طرح کا خدشہ موجود ہے کہ گیس کی فراہمی متاثر ہو۔ انھیں پھر سنہ دو ہزار چھ اور دو ہزار آٹھ کی صورت حال درپیش ہے۔

سردیوں سے پہلے گیس کا تنازعہ حل کرنے کی مجبوری کی وجہ سے ہی یورپی یورنین نے یوکرین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ جو گزشتہ ماہ طے کرنا تھا دسمبر دو ہزار پندرہ تک موخر کر دیا ہے۔

اڑتیس مغربی ملکوں میں تجربات کرنے کے بعد یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ روس سے گیس کی فراہمی طویل عرصے تک معطل رہنے کی صورت میں بہت سے گھر سردی میں بری طرح متاثر ہوں گے۔ ان ملکوں میں فن لینڈ اور اسٹونیا اور بلکان کی ریاستیں سربیا، بوسنیا ہر زوگوینا اور میسی ڈونیا شامل ہیں۔

بالٹک ملکوں میں سلواکیا اور ہنگری بھی یورپی برادری کے دو ایسے ملک ہیں جن کا انحصار بڑی حد تک روس کی گیس کی فراہمی پر ہے۔

لیکن یورپی کمشین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملک قومی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے مشترکہ طور پر کام کریں تو پھر بہت کم صارفین متاثر ہوں گے۔

گو کہ روس نے یوکرین کو براہ راست گیس کی فراہمی معطل کر رکھی ہے لیکن کئی یورپی ملک یوکرین کو ’ریورس فلو‘ کی ٹیکنالوجی کے ذریعے گیس فراہم کر رہے ہیں۔

کیا روس یوکرین سے اجتناب کر سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کی ستر فیصد گیس یوکرین کے ذریعے ہی یورپ پہنچتی ہے

یہی وہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کا ایک بڑا منصوبہ جنوبی سٹریم کا ہے جو بلغاریہ اور ہنگری اور کئی دوسرے مغربی ملکوں سے گزرتا ہے۔

کیا یوکرین کو کسی دوسرے ذریعے سے گیس مل سکتی ہے؟

جب سے روس سے گیس کی فراہمی معطل ہوئی ہے یوکرین اسی کوشش میں ہے کہ دوسرے ذرائع سے گیس حاصل کرے جن میں جرمنی، چیک رپبلک، سلواکیا اور پولینڈ شامل ہیں۔ سلواکیا کی ’ای یو سٹریم‘ نے یوکرین کو دس ارب مربع میٹر گیس ہر سال فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جب کہ جرمنی کی کمپنی کا کہنا ہے وہ بھی اتنی ہی گیس فراہم کر سکتی ہے۔

ناروے کی ’سٹٹ آئل‘ نے ایک معاہدے کیا ہے لیکن اس نے اس کی تفصیل فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تفصیلات فراہم نہ کرنے کی بظاہر وجہ اس بات کو خفیہ رکھنا ہے کہ وہ خطہ منجمد شمالی سے کتنی گیس نکال رہا ہے۔

یوکرین کو کتنی گیس چاہیے؟

یوکرین کو ہر سال پچاس ارب مربع میٹر گیس درکار ہوتی ہے اور یہ بیس ارب مربع میٹر (بی ایم سی) گیس پیدا کر رہا ہے اور باقی مقدار درآمد کی جاتی ہے۔ گیزپرام کے حکام کے خیال ہے کہ یوکرین کو اپنی آبادی کو سردی سے بچانے کے لیے اٹھارہ بی سی ایم گیس چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ناروے خطے منجدہ شمالی میں سے گیس حاصل کر رہا ہے

یہ اعداد و شمار تصدیق شدہ نہیں اور یوکرین کی گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے 16 اعشاریہ سات بی سی ایم زیر زمین ذخیرہ کر رکھی ہے۔ یوکرین مختلف ملکوں سے گیس کی فراہمی کے معاہدے بھی کر چکا ہے لیکن پھر بھی اسے پانچ بی سی ایم گیس روس سے درکار ہو گی۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پروشنکو کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ اور سترہ اکتوبر کو ملان میں روس کے صدر کے ساتھ اس پر بات ہو گی۔

اصل جھگڑا روس کی طرف سے ابتدائی ادائیگی اور بقیہ رقم کی ادائیگی کے وقت کے تعین پر ہے۔ یوکرین کا مسئلہ مستقل میں گیس کی قیمت کے تعین کا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ روس اس پر رضا مند ہو جائے کہ اسے ایک ارب پینتالیس کروڑ پہلے ادا کر دیئے جائیں لیکن وہ ایسا اس شرط پر کرے گا کہ اگر یوکرین کی طرف سے مستقبل میں بل وقت سے پہلے ادا کیے جائیں۔

کیا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟

شاید نہیں۔ جب یہ قضیہ شروع ہوا تھا روس اور یوکرین اس سٹاک ہوم چیمبر آف کامرس میں بین الاقوامی ثالثی کے لیے لے گئے تھے۔ اس ہی وجہ سے گیس کے بقایاجات کی ادائیگی اور مستقبل کے نرخ پر حتمی فیصلہ اگلے سال تک نہیں ہو سکے گا۔