’قبر سے دادی‘ کا ٹیکسٹ میسج

شیری ایمرسن تصویر کے کاپی رائٹ Reproducao
Image caption شیری ایمرسن کہتی ہیں کہ انھیں میسج ملنے سے سخت پریشانی اورتکلیف ہوئی ہے

برطانیہ کے شہر ساؤتھ شیلڈز میں رہنے والی ایک خاتون کو اس وقت دھچکہ لگا جب اپنی دادی کی وفات کے تین سال بعد اسے ان کے موبائل سے ایک ٹیکسٹ میسج آیا۔

جب لیزلی ایمرسن کا 2011 میں انتقال ہوا تھا تو ان کے ساتھ ان کی چند پسندیدہ اشیاء بھی دفن کر دی گئی تھیں جن میں ان کا فون بھی تھا۔

ساؤتھ شیلڈز کی رہائشی شیری ایمرسن کہتی ہیں کہ انھیں اپنی دادی کو ٹیکسٹ میسج بھیجنے سے سکون ملتا تھا۔ لیکن جب ایک دن یہ پیغام کہ ’میں تمہیں دیکھ رہی ہوں‘ وہ ششدر رہ گئیں۔

بعد میں پتہ چلا کہ موبائل نیٹ ورک نے ان کا نمبر کسی اور الاٹ کر دیا تھا اور وہ سمجھا کہ اس کے دوست اس سے مذاق کر رہے ہیں۔

نیٹ ورک او2 نے خاندان سے بات کی ہے اور کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف پہنچنے پر معافی مانگی ہے۔

ایمرسن کہتی ہیں کہ دادی کی موت کے بعد وہ ساؤتھ شیلڈز کی ہارٹن سیمیٹری میں جانے کے بجائے اپنی دادی کو موبائل فون کے ذریعے چھوٹے چھوٹے نجی پیغامات بھیجنے لگیں تاکہ وہ ’ان کے قریب رہ سکیں۔‘

’مجھے معلوم ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں لیکن پھر بھی یہ انھیں پہنچ رہیں ہیں۔‘

لیکن ایمرسن کو اس وقت ’پریشانی اور تکلیف‘ کا سامنا کرنا پڑا جب کہ اسے دادی کے نمبر سے ایک پیغام آیا کہ ’میں تمہیں دیکھ رہی ہوں اور سب اچھا ہو جائے گا۔ بس یہ وقت گزار لو۔‘

ایمرسن کہتی ہیں کہ اس وقت ان کے دماغ میں کئی خوفناک چیزیں دوڑ رہی تھیں۔

’کس طرح ان کا فون کسی اور تک پہنچ گیا؟ کیا انھیں سب ٹیکسٹ پہنچ رہے تھے؟‘

جب ایمرسن کے خاندان میں سے کسی نے وہ نمبر ملایا تو جس شخص نے وہ فون اٹھایا اس نے انھیں بتایا کہ یہ نمبر اسے آلاٹ ہوا ہے اور کیونکہ اسے ایسا لگا کہ اس کے دوست اس قسم کے ٹیکسٹ میسج بھیج کر اس سے مذاق کر رہے ہیں اس نے پیغام بھیج دیا۔

ایمرسن کہتی ہیں کہ ’میں نے اس شخص پر غصہ نکالا لیکن یہ اس کی غلطی نہیں تھی۔‘

او2 کا کہنا ہے کہ جو فون نمبر منقطع کیے جاتے ہیں اور جلد ہی دوبارہ ریکنکٹ نہیں کیے جاتے وہ بعد میں لوگوں کو دے دیے جاتے ہیں۔ او2 نے ایمرسن کے خاندان سے پریشانی کی وجہ سے معذرت کی ہے۔

اسی بارے میں