’ایبولا کے خلاف بھرپور کوششوں کی بنیادیں رکھ رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایم ایس ایف کے رابطہ کار کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس ابھی تک قابو سے باہر ہے

اقوام متحدہ نے مغربی افریقہ میں ایبولا کے خلاف کام کرنے والی سب سے بڑی تنظیم کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی کوششوں کے کوئی خاص اثرات نہیں ہو رہے ہیں۔

ایم ایس ایف نامی تنظیم کے الزام کے جواب میں ایبولا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈیوڈ نبارو نے بی بی سی کو بتایا اقوام متحدہ اگلے ماہ تک مغربی افریقہ میں ایبولا کے مریضوں کے لیے چار ہزار بستر مہیا کرنے کے اپنے منصوبے پر قائم ہے۔ نمائندے کا کہنا تھا کہ اگست کے آخر تک صرف تین سو بستر دستیاب تھے لیکن نومبر کے آغاز تک یہ تعداد چار ہزار ہو جائے گی۔

دوسری جانب ایم ایس ایف کے رابطہ کار کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس ابھی تک قابو سے باہر ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے اپنے ہی ادارے ’عالمی ادارۂ صحت،‘ یا ڈبلیو ایچ او بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہہ چکا ہے کہ تنظیم افریقہ میں ایبولا سے بروقت نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں اس ناکامی کی وجہ خراب ترسیل اور عملے کی نااہلی کو قرار دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں شامل افراد نوشتۂ دیوار پڑھنے میں ناکام رہے۔

اس کے علاوہ عالمی ارارۂ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایلبولا پر قابو پانے میں ناکامی کے حوالے سے تفتیش کا وقت آ گیا ہے۔

بھر پور دفاع

بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈوئل نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈیوڈ نبارو سے پوچھا تھا کہ ان کا ایم ایس ایف کے اس بیان کے بارے میں کیا کہنا ہے کہ ایبولا کے سلسلے میں گزشتہ عرصے میں بین الاقوامی سطح پر جس مالی امداد اور طبی عملے کو مغربی افریقہ بھجوانے کے جو وعدے کیے گئے تھے ان کے ابھی تک کوئی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔

جواب میں مسٹر نبارو کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران انھوں نے ایبولا کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششوں میں بہت بڑا اضافہ دیکھا ہے۔

’مجھے کامل یقین ہے کہ جب ہم آج کی کوششوں کو مستقبل میں تاریخ کی نظر سے دیکھیں گے تو ہمیں احساس ہو گا کہ ہماری کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے، تاہم میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ ایبولا کے پھیلاؤ میں کمی اس سال کے آخر تک ہی ہو سکے گی۔

’آج ہم ایبولا کے خلاف بھرپور کوششوں کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈبلیو ايچ او کے مطابق ایبولا سے اب تک 4,546 افراد ہلاک جبکہ نو ہزار سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل ایم ایس ایف کے رابطہ کار کرسٹوفر سٹوکس نے ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات ’عجیب‘ ہے کہ مغربی افریقہ میں صرف ان کی تنظیم سے منسلک کارکن ہی کام کر رہے ہیں۔

رابطہ کار کا کہنا تھا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں ایبولا کے علاج کے لیے قائم کی جانے والی سہولیات صرف ان کی تنظیم ہی چلا رہی ہے اور کل ایک ہزار بستروں میں سے سات سو بستر وں پر پڑے مریضوں کی ذمہ داری انھوں نے ہی اٹھا رکھی ہے۔

’سیئرا لیون میں برطانوی فوجی ہسپتال کا قیام اور بین القوامی سطح پر حال ہی میں کیے جانے والے امداد کے دیگر وعدوں پر عمل ہوتے ہوتے کم از کم ایک ماہ سے چھ ہفتے لگ جائیں گے۔‘

ایم ایس ایف کے رابطہ کار سے قبل ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان نے بھی کہا تھا کہ انھیں اس بیماری کے شروع ہونے اور پھیلاؤ کے بارے پوری طرح سے مطلع نہیں کیا گیا اور یہ کہ اس کے لیے کیے جانے والے اقدامات کافی نہیں تھے۔

اطلاعات کے مطابق مغربی افریقہ میں اس وائرس کے آنے کے بعد کھانے پینے کی اشیاء کے داموں میں اضافہ ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ نے ایبولا سے سب سے متاثر ممالک میں سے ایک سيئرا لیون میں غذائی اشیا کی تقسیم شروع کر دی ہے۔

ڈبلیو ايچ او کے مطابق ایبولا سے اب تک 4,546 افراد ہلاک جبکہ نو ہزار سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں