ایبولا کا موسم پوری جوانی کے ساتھ واشنگٹن میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایبولا کے موسم کی ایسی دھوم ہے کہ ایک کمپنی نے ایبولا کی تصویر والی ڈنر پلیٹیں فروخت کرنی شروع کر دی

واشنگٹن میں موسم بدل چکا ہے۔ پتے رنگ بدلنے لگے ہیں۔ گرمی جھانسہ ضرور دیتی ہے، کبھی کبھی سخت دھوپ کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلا کر کہتی ہے میں ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لیکن دروازے سے باہر نکلتے ہی ہوا کی خنکی اس دعوے کو جھٹلا دیتی ہے۔

ایک ہفتہ اور گزرے گا، باقی سبز پتے بھی لال پیلے رنگوں میں شرابور ہو جائیں گے اور پھر کچھ ہی دنوں میں ہمیشہ کے لیے درخت کا ساتھ چھوڑ دیں گے زمین کو چومنے کے لیے پھر درخت ماتم کناں ہوجائیں گے۔

لیکن یہ تو ہر سال کا معمول ہے۔ آئندہ برس اور پھر اس کے اگلے برس بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ لیکن واشنگٹن کے اصلی موسم کے بارے میں شاید ہی کوئی اتنا یقین سے کچھ کہہ سکے۔ جس تیزی سے بغیر کسی وارننگ کے وہ بدلتا ہے اس تیزی سے تو گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا۔ کہاں سے آئے گا اور کہاں کو جائے گا، اس کی کسی کو بھنک تک نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کل تک یہاں آئی ایس آئي ایس یعنی دولت اسلامیہ سے خطرے کا موسم تھا

چار پانچ برس قبل جب میں یہاں تھا تو یہاں ان دنوں پاکستان کا موسم تھا۔ کانگریس میں پاکستان، وائٹ ہاؤس میں پاکستان، تھنک ٹینک میں پاکستان، اخبارات میں پاکستان، کتاب کی دکانوں میں پاکستان۔ کافی لمبا چلا تھا وہ موسم۔

لیکن اسامہ بن لادن نے پاکستان اور دنیا کو کیا چھوڑا، امریکہ سے پاکستان کا موسم ہی لے کر چلے گئے۔

دو ہفتے پہلے مودی کا موسم آیا تھا۔ کون ہے مودی، کیا ہے مودی، کیا دے گا مودی، کیا لےگا مودی۔ موسم کا ہر رنگ واشنگٹن میں نظر آ رہا تھا۔ اب وہ بھی ختم ہوا۔

اب تو جو موسم پوری جوانی کے ساتھ واشنگٹن میں اترا ہے وہ موسم ایبولا ہے۔ صبح اچھا بھلا اٹھتا ہوں، لیکن اخبار اور ٹی وی دیکھنے کے بعد جب گھر سے باہر نکلتا ہوں تو ہر انسان کو گھور رہا ہوتا ہوں کہ کہیں اسے ایبولا تو نہیں ہے۔

سنا ہے سکول میں بچے کسی کو كھانستا ہوا سنتے ہیں تو ایک ساتھ آواز لگانے لگتے ہیں، ایبولا ایبولا۔

کل تک یہاں آئی ایس آئي ایس یعنی دولت اسلامیہ سے خطرے کا موسم تھا۔ ہزاروں میل دور چل رہی جنگ سے امریکی ہوم لینڈ کو محفوظ کرنے کے نسخے بتانے کے لیے برساتی میڈھکوں کی طرح ہر کونے سے ماہرین باہر نکل آئے تھے۔

بیچارے دولت اسلامیہ کو آج اگر سب سے زیادہ کسی سے خطرہ ہے تو وہ ایبولا سے ہے۔ دولت اسلامیہ کا مسئلہ اندر کے صفحات پر دھکیلا جا چکا ہے، یہ حالات رہے تو پورے اخبار سے ہی باہر ہو جائے گا۔ چلے تھے پوری دنیا پر حکمرانی کرنے اور ایک چھوٹے سے کیڑے نے اوقات بتا دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دو ہفتے پہلے مودی کا موسم آیا تھا

اتنے بڑے ملک میں ابھی تک صرف تین لوگوں کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ انھیں ایبولا ہوا ہے۔ لیکن ٹی وی پر اس کی کوریج دیکھ کر، کانگریس میں اس معاملے پر چل رہی بحث سن کر، اوباما کے بیانات سن کر لگ رہا ہے جیسے یہ امریکہ نہیں افریقہ ہو۔

اور اس جنون میں اس افریقہ کو بھول ہی گئے ہیں جہاں ہر روز ہزاروں اس بیماری کی زد میں آ رہے ہیں۔ اگر کچھ ایسی ہی تیاری وہاں کروا دیتے اور ایبولا کو افریقہ میں ہی روک دیتے تو کچھ بھلا ہوتا۔

ایبولا کے موسم کی ایسی دھوم ہے کہ ایک کمپنی نے ایبولا کی بالیاں، ایبولا کے نیكلیس اور یہاں تک کہ ایبولا کی تصویر والی ڈنر پلیٹیں فروخت کرنی شروع کر دی ہیں۔ ٹی شرٹ پر لکھا ہوا ہے ’ہولا ایبولہ‘ یعنی ہیلو ایبولا۔

اب تو بس دیکھنا یہ ہے کہ یہ موسم اور کتنے دن چلے گا اور دوسرا آنے والا موسم کیا لے کر آئے گا۔

اسی بارے میں