مریخ کے قریب سے گزرنے والے دمدار ستارے کا مشاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ D.PEACH
Image caption ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اوٹ کلاؤڈ کی جانب سے آنے والے دم دار سیارے کا مشاہدہ کیا گیا

ماہرین فلکیات کو حال ہی میں دور ترین مقام سے نظام شمسی میں داخل ہونے والے ایک دم دار ستارے کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔

سائٹنگ سپرنگ نامی یہ دم دار ستارہ مریخ سے ایک لاکھ 39 ہزار پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے سے 56 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزرا۔

مریخ کی سطح پر موجود ربورٹس اور مصنوعی سیاروں نے اس منظر کو کیمروں اور دیگر آلات کی مدد سے فلمایا۔

سائٹنگ سپرنگ ستارہ خلا کے کروی شکل کے خطے اوٹ کلاؤڈ سے آیا تھا اور یہ مقام سیاروں سے بہت آگے واقع ہے۔

محققین کے خیال میں اس دم دار ستارے کے ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آنے کے بعد سے اس کی ساخت میں معمولی تبدیلی آئی ہے۔

امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کی اپلائڈ فزکس لیبارٹری کے کیری لیسا کے مطابق ممکنہ طور پر سائیڈنگ سپرنگ نظام شسمی میں اوٹ کلاؤڈ کے قریب سے راستہ بناتا ہوا داخل ہوا۔

’ایک دم دار ستارے کے بعد سوچنا جس نے ممکنہ طور پر انسان کے وجود میں آنے سے پہلے سفر شروع کیا تھا اور چلا آ رہا ہے، اب اس کے مشاہدے کی اصل وجوہات یہ ہیں کہ ہم نے مصنوعی سیارے اور خلائی ربورٹس بنائے اور مریخ پر پوسٹ قائم کی، یہ بالکل بہت ہی دلچسپ ہے۔‘

اس دم دار ستارے کی برفانی تہہ یا مرکز ایک ہزار میٹر چوڑا ہے اور امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مریخ پر بھیجے گئے مصنوعی سیارے نے اس کی تصاویر لیں اور ان کی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کی اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اوٹ کلاؤڈ کی جانب سے آنے والے دم دار سیارے کا مشاہدہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ دیگر مصنوعی سیاروں نے سائٹنگ سپرنگ سے خارج ہونے والی گیسوں اور اس کی دم سے خارج ہونے والے دیگر مواد کا جائزہ لیا۔

اسی بارے میں