ترکی کردوں کو شام میں لڑنے کی اجازت دینے پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی اب تک کرد جنگجوؤں کو سرحد پار شام جانے کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا ہے

ترکی کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ترکی کرد جنگجوؤں کو سرحد پار کر کے شام میں جانے کی اجازت دے گا جہاں وہ کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے لڑ سکیں۔

ترک وزیرِ خارجہ نےمزید تفصیل نہیں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ابھی مذاکرات جاری ہیں۔

ہزاروں افراد دولتِ اسلامیہ اور کوبانی کا دفاع کرنے والے شامی کردوں کے درمیان مہینوں سے جاری جنگ کے سبب نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ترکی اب تک کرد جنگجوؤں کو سرحد پار شام جانے کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا ہے کیونکہ ترکی کو خدشہ ہے کہ اس سے خود ترکی میں ردِ عمل سامنے آ سکتا ہے کیونکہ ترکی کو طویل عرصے تک کرد ملیشیا پی کے کے کی جانب سے بغاوت کا سامنا رہا ہے جسے امریکہ بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

پی کے کے ترکی میں زیادہ خود مختاری کی بات کرتی ہے اور اس کے شام کے کردوں کے ساتھ روابط ہیں۔

ترکی پر اپنی ہی کرد آبادی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کرد جنگجوؤں کو کوبانی کے دفاع کے لیے سرحد پار شامی کردوں کی مدد کے لیے جانے کی اجازت دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کوبانی میں امریکی فضائیہ نے ابھی تک 135 بار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں

کوبانی کی جھڑپوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری لڑائی میں علامتی شکل اختیار کر لی ہے اور ترکی بھی نہیں چاہتا کہ کوبانی دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ لگے۔

ادھرکوبانی میں امریکی جنگی طیاروں نے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں کے لیے اسلحہ، گولہ بارود اور طبی سازو سامان گرایا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ سی 130 سامان بردار طیارے نے کئی بار جنگی ساز و سامان گرایا ہے۔

اس سے قبل امریکی فضائی حملوں نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو ترکی کی سرحد سے ملحق کوبانی شہر پر کنٹرول حاصل کرنے سے باز رکھا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ کا اہم حلیف ترکی ناراض ہو سکتا ہے۔

دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے خطے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور کوبانی پر کنٹرول حاصل کرنا ان کی عسکری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس شہر میں کئی ہفتوں سے شدید جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر شہری ترک وطن پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کرد جنگجو گروپ پی کے کے کو دہشت گرد قراد دیتا ہے تاہم وہ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے کردوں کے لیے جنگی سامان بہم پہنچا رہا ہے

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عراق میں کرد حکام کی جانب سے دیا جانے والا سازوسامان طیارے سے گرایا گیا ہے تاکہ دولت اسلامیہ کے خلاف کرد جنگجوؤں کی مزاحمت کو تقویت پہنچائی جا سکے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کام کے لیے جتنے بھی طیارے روانہ کیے گئے تھے سب کے سب محفوظ واپس آ گئے ہیں۔

سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کوبانی میں امریکی فضائیہ نے اب تک 135 بار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے جنگجو کردوں کے لیے بدستور خطرہ ہیں اور کوبانی اب بھی ان کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔‘

اتوار کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ کہ وہ کرد جنگجوؤں کو امریکہ کی جانب سے اسلحہ دیے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ترکی کردوں کو مسلح کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ وہ دولت اسلامیہ کی طرح ہی کردوں کو بھی دہشت گرد سمجھتا ہے۔

اسی بارے میں