وائٹ ہاؤس پر کالا جھنڈا لہرائیں گے: آسٹریلوی نوجوان

دولتِ اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں میں مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوان شامل ہیں

شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والے ایک آسٹریلوی نوجوان نے ایک ویڈیو پیغام میں آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ اور امریکی صدر براک اوباما کو مخاطب کیا ہے۔

17 سالہ عبداللہ المیر نے، جو اپنے آپ کو ابو خالد کہتے ہیں، کہا ہے کہ ’ہم اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے جب تک تمھاری سرزمینوں پر نہیں آ جاتے۔‘

وہ جون میں ایک اور آسٹریلوی نوجوان کے ساتھ ملک سے بھاگ گئے تھے اور خیال ہے کہ وہ ترکی کے راستے شام میں داخل ہو گئے تھے۔

ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ اس سے (ملک کو) دولتِ اسلامیہ سے درپیش خطرے کا پتہ چلتا ہے: ’اسی وجہ سے آسٹریلیا نے عراق میں داعش کو ختم کرنے اور نیچا دکھانے کے لیے بنائے جانے والے اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔‘

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی سربراہی والے اتحاد میں آسٹریلیا اہم شراکت دار ہے۔ اس نے شام اور عراق میں جنگ کے لیے 600 فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں اس نے عراق سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اس کے 200 خصوصی فوجی عراقی فوجیوں کی تربیت کریں گے۔

آسٹریلیا نے شام اور عراق سے جہادیوں کی واپسی کی تشویش کے بعد ستمبر میں ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بھی بلند کر دیا تھا۔ انٹیلی جنس کی ان رپورٹوں کے بعد کہ اسلامی شدت پسند ملک میں ہلاکتوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، کئی جگہ چھاپے بھی مارے گئے۔

آن لائن پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں عبداللہ المیر نے انگریزی زبان میں کہا: ’میں ان رہنماؤں سے، اوباما سے، ٹونی ایبٹ سے، کہتا ہوں کہ یہ ہتھیار اور فوجی جو ہمارے پاس ہیں، ہم لڑائی بند نہیں کریں گے، ہم اس وقت تک اپنے ہتھیار نہیں رکھیں گے جب تک ہم تمھاری سرزمینوں پر نہیں پہنچ جاتے۔

’ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ہم کالا جھنڈا بکنگھم پیلس پر نہیں لہرا لیتے، جب تک ہم کالا جھنڈا وائٹ ہاؤس کے اوپر نہیں لہرا لیتے۔‘

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق جو نوجوان عبداللہ المیر کے ساتھ بھاگا تھا، اسے اس کے باپ نے راستے میں روک لیا اور وہ اب سڈنی واپس پہنچ گیا ہے۔

اسی بارے میں