نائجیریا کو ایبولا سے بچانے والی ہیرو

Image caption ڈاکٹر بنجامن اوہیاری کا کہنا ہے: ’لائبیریا کے سفیر نے ڈاکٹر سٹیلا کو فون کرنے شروع کر دیے اور ان پر اور ہسپتال پر دباؤ بڑھا دیا۔ سفیر کا خیال تھا کہ ہم نے اس شخص کو اغوا کر رکھا ہے اور اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘

ایبولا وائرس سے پاک ہونے پر نائجیریا سکھ کا سانس لے رہا ہے اور ساتھ ہی اس خاتون کی تعریفوں کے پُل باندھے جا رہے ہیں جنھوں نے اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں اپنا جان گنوا دی۔

ڈاکٹر سٹیلا امیو نے جولائی میں لائبیریا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا لاگوس میں علاج کرتے ہوئے حکام کو ایبولا کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔

لائبیریا سے تعلق رکھنے والے پیٹرک سوئر بیمار حالت میں لاگوس پہنچے تھے۔ اس شخص کو جہاز پر سوار ہی نہیں ہونے دینا چاہیے تھا۔

اس سے قبل نائجیریا میں ایبولا کا کوئی مریض نہیں تھا اور اس کی تشخیص کرنا ایک شاندار کارنامہ تھا۔

پیٹرک کا علاج کرتے وقت اور ملک میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے دوران ڈاکٹر سٹیلا اور ان کے عملے کو اس وائرس کا شکار ہونے کا شدید خطرہ تھا۔

ڈاکٹر سٹیلا کے 26 سالہ اکلوتے بیٹے بنکول کارڈیسو کا کہنا ہے: ’جب یہ مریض پہنچا تو میرے والد اور میں تواتر سے والدہ سے اس کی خیریت دریافت کرتے رہے۔ جب ایبولا کی تشخیص ہوئی تو ہماری پریشانی بڑھ گئی۔‘

کارڈوسو کا کہنا ہے: ’جس وقت تشخیص کے بعد ڈاکٹر سٹیلا کو اندر جانا تھا تو وہ بہت پریشان تھیں۔‘

اس قبل ہی ڈاکٹر سٹیلا نے ایک محاذ پر اس وقت کامیابی حاصل کر لی جب مریض کو علیحدہ وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ مریض کو اس بات کی خوشی نہیں تھی کہ اس کو علیحدہ وارڈ میں رکھا جا رہا ہے۔

لاگوس کے فرسٹ کنسلٹنٹ ہسپتال کے ڈاکٹر بنجمن اوہیاری کا کہنا ہے کہ پیٹرک سوئر نہایت غصے میں آ گیا اور انھوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔

پیٹرک سوئر کی بہن اس سے قبل ایبولا ہی کے باعث ہلاک ہو گئی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ پیٹرک علاج کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا اور وہ نائجیریا کے ایک مشہور چرچ میں ایک ایک نام نہاد ’معجزہ کرنے والا پادری‘ کے پاس جانا چاہتا تھا۔

ابتدائی ایام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیٹرک کی موت ہسپتال میں ایبولا وائرس سے ہوئی اور ان سے ڈاکٹر سٹیلا اور ان کے عملے کے 11 افراد کو بھی یہ مرض منتقل ہو گیا

پیٹرک کے ہسپتال میں داخلے کے ابتدائی روز میں جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا تھا تو ڈاکٹر سٹیلا پر اس مریض کو ہسپتال سے فارغ کرنے کا شدید دباؤ تھا۔

ڈاکٹر بنجامن اوہیاری کا کہنا ہے: ’لائبیریا کے سفیر نے ڈاکٹر سٹیلا کو فون کرنے شروع کر دیے اور ان پر اور ہسپتال پر دباؤ بڑھا دیا۔ سفیر کا خیال تھا کہ ہم نے اس شخص کو اغوا کر رکھا ہے اور اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

’لیکن قومی مفاد کو پہلے رکھتے ہوئے اس شخص کو ہسپتال ہی میں رکھا گیا۔‘

پیٹرک کی موت ہسپتال میں ایبولا وائرس سے ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر سٹیلا اور ان کے عملے کے 11 افراد کو بھی یہ مرض لاحق ہو گیا۔

مشکل وقت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نائیجیریا کے میڈیا نے ڈاکٹر سٹیلا کو ہیرو قرار دیا لیکن ان کے بیٹے کے لیے یہ تمام خبریں بلکہ یہ موضوع ہی تکلیف دہ ہے

ڈاکٹر سٹیلا کے بیٹے کارڈوسو کا کہنا ہے: ’پہلے دو دن میں کھڑکی ہی سے اپنی والدہ سے بات چیت کر سکتا تھا۔ میں ان کے سلیپر اور تولیہ لے کر گیا۔ لیکن اگلے ہی روز مجھے کھڑکی پر بھی نہیں جانے دیا گیا۔ ہر روز ہماری امید بڑھتی جا رہی تھی اور میری سالگرہ والے روز ہمیں سب سے زیادہ امید بڑھی۔‘

کارڈوسو نے بتایا: ’پھر پیر کو سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ ہمیں کمرے میں بلایا گیا اور بتایا گیا کہ کیا صورتِ حال ہے۔‘

ڈاکٹر بنجامن اوہیاری نے کہا: ’ہم نے اپنے عملے کے چند بہترین افراد کھو دیے۔ ڈاکٹر سٹیلا نے ہمارے ساتھ 21 سال کام کیا اور وہ بہترین ڈاکٹر تھیں۔‘

نائجیریا کے میڈیا نے ڈاکٹر سٹیلا کو ہیرو قرار دیا لیکن ان کے بیٹے کے لیے یہ تمام خبریں بلکہ یہ موضوع ہی تکلیف دہ ہے۔

اسی بارے میں