کشمیر مارچ، حریت لیڈر ویڈیو کانفرنس سے خطاب کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption لندن کے تاریخی ٹریفالگر سکوائر پر اکثر سماجی، سیاسی اور ثقافی اجتماعات ہوتے رہتے ہیں

لندن میں 26 اکتوبر کے ’کشمیر مارچ‘ میں برطانوی پارلیمان کے پچیس ارکان نے شرکت کی یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما اس مارچ میں سری نگر سے براہ راست ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کریں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ : یہ ایک بہت بڑا مارچ ہو گا اور اس میں برطانوی پارلیمان کے 25 ارکان نے شرکت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مارچ میں شرکت کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں علی گیلانی، یاسین ملک اور شبیر شاہ کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن ان کو بھارتی حکومت نے سفری دستاویزات جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود اس مارچ میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کی نمائندگی ہو گی۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور سے بات کرتے ہوئے علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کی متنازعہ حیثیت کو حکومت ہند زائل کرنا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ نہ عالمی مبصرین کو کشمیر آنے کی اجازت دی جاتی ہےا ور نہ ہم لوگوں کو دنیا کے مہذب ممالک میں انصاف کی آواز بلند کرنے کا موقع دیا جاتاہے ۔لیکن ہم لندن ریلی کی پرزور حمایت کرتے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہم اس ریلی میں موجود لوگوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ بات کریں۔‘

حریت کانفرنس میرواعظ گروپ کے رہنما نعیم احمد خان نے بتایا : ’پچھلی چھ دہائیوں سے حکومت ہند کی پالیسی رہی ہے کہ کشمیریوں پر ہو رہے مظالم کو خفیہ رکھا جائے۔ لیکن اب دنیا بدل رہی ہے۔ اب کسی بھی ملک کے جرائم دنیا سے چھپ نہیں سکتے۔ لندن میں ہو رہی ریلی اسی نئی تبدیلی کی علامت ہے۔‘

بیرسٹر سلطان محمود نے جو اس مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے ان دنوں برمنگھم اور مانچسٹر کے دورے پر ہیں کہا بھارتی حکومت نے اس مارچ پر پابندی لگانے کے لیے برطانوی حکومت سے باقاعدہ درخواست کی تھی اور وہ اب اس کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح حرکت میں آ گئی ہے۔

انھوں نے ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہلمنڈ سے بات کی اور اس بھارت مخالف مارچ کو بند کرنے کا کہا۔

اخبار کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ میں اظہار رائے کی پوری آزادی ہے اور برطانوی حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی تاوقتکہ کہ مظاہرین قانون کے دائر میں رہ کر احتجاج کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کشمیریوں کا یہ ’مارچ‘ لندن کے مشہوں ٹریفالگر سکوائر سے دوپہر میں شروع ہو کر برطانیہ وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈائونگ سٹریٹ تک جائے گا جہاں برطانوی وزیر اعظم کو ایک یاداشت پیش کی جائے گی۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی سکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ہوا ہے جس کے بعد برطانوی پارلیمان نے فلسطین کے حق میں بھی ایک تحریک منظور کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے مارچ کرنے کا بھی خیال ان ہی چیزوں سے متاثر ہو کر آیا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں پاکستان کی سرحد پر بھارت کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی احتجاج کا اہتمام کرنے کی ایک وجہ بنے۔