کینیڈا: ’حالیہ حملوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کینیڈا کے وزیراعظم سٹیون ہارپر نے کہا ہے کہ ان کا ملک حالیہ حملوں سے خوفزدہ نہیں ہو گا۔ اس سے قبل ایک مسلح شخص نے پارلیمان پر دھاوا بولنے سے پہلے ایک فوجی کو ہلاک کر دیا تھا۔

وزیراعظم نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں بربریت کرنے والے افراد کے خلاف کوششوں کو تیز کیا جائے گا۔

’اس ہفتے ملک میں ہونے والے واقعات سے ہمیں یہ یاد دلایا گیا ہے کہ سکیورٹی حکام پر حملہ اور ہمارے اداروں پر حملہ دراصل ہمارے معاشرے، ہماری روایات اور ایک آزاد جمہوری ملک ہونے کے ناطے کینیڈا پر حملہ ہے۔ تاہم یہ غلط فہمی ہر گز نہ ہو کہ ہم ڈر جائیں گے۔ کینیڈا کبھی کسی سے نہیں ڈرے گا۔‘

وزیراعظم سٹیون ہارپر کے مطابق حملے سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ شدت پسندی کے خلاف جنگ کا عزم مزید پختہ ہو گا۔

دارالحکومت آٹوا کی سکیورٹی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے تاہم پارلیمان کا علاقہ ابھی بند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مسلح حملہ آور جسے جنگی یادگار پر فائرنگ میں ایک سکیورٹی اہلکار کو ہلاک کرنے کے بعد مار دیا گیا تھا اس کی شناخت مائیکل زیہاف بیبو کے نام سے کی گئی ہے اور وہ کینیڈا کا شہری تھا۔

بدھ کو آٹوا میں ایک مسلح شخص نے جنگی یادگار کے باہر تعینات ایک فوجی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد ملک کی پارلیمان کے اندر اس کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

آٹوا میں پارلیمنٹ سمیت تین مقامات پر میں فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک بڑی سکیورٹی کارروائی جاری ہے۔

ایک مسلح شخص نے قومی یادگار کی حفاظت پر مامور ایک فوجی کو ہلاک کر دیا اور قریب موجود پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گیا جہاں پولیس نے اس کا پیچھا کیا۔ حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

آٹوا میں پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کھڑکیوں اور چھتوں سے دور رہیں۔ شہر میں لائبریریوں اور سکولوں سمیت عوامی عمارتوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

کینیڈا میں فوجی اڈوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے اور فوجی اور مسلح پولیس اہلکار شہر میں دوسرے مشتبہ حملہ آور کی تلاش کر رہے ہیں۔

اس سے قبل پیر کو ایک ایسے شخص کو پولیس نے گولی مار دی تھی جس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا اور اس نے اپنی گاڑی سے کینیڈا کے دو شہریوں کو کچل ڈالا تھا۔ ان میں سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے میں زخمی ہونے والا فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے

بدھ کو ہونے والے اس حملے میں عینی شاہدین کے مطابق ایک مسلح شخص کو آٹووا جنگی یادگار کی طرف سے فائرنگ کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا اور وہاں سے بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

یہ واقع کینیڈا کی حکومت کی طرف سے ’ٹیرر تھریٹ‘ یعنی دہشت گردی کے خطرے کو کم سے درمیانہ درجے تک بڑھانے کے تھوڑی ہی دیر بعد پیش آیا۔

حملے کے وقت کینیڈا کا پارلیمان بند تھا۔ وزیراعظم سٹیون ہارپر کے ذرائع ابلاغ کے ڈائریکٹر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وزیر اعظم محفوظ ہیں اور وہ اس وقت تک پارلیمان سے نکل چکے تھے۔

کینیڈا کی رائل ماؤنٹڈ پولیس فوری طور پر حرکت میں آ گئی۔

ایک سرکاری اہلکار نے اس سے قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خطرے کا درجہ اس لیے بلند کیاگیا کیوں کہ سوشل میڈیا اور دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی طرف سے بہت کچھ کہا جا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دوسرے حملہ آور کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے