ملالہ یوسفزئی کے لیے امریکہ کا لبرٹی میڈل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دو ہفتے قبل ملالہ یوسفزئی کو نوبیل کے امن انعام سے سرفراز کیا گیا تھا جس کے بعد وہ یہ انعام جیتنے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت بن گئی تھیں

دنیا کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو امریکی شہر فلاڈیلفیا میں باوقار لبرٹی میڈل سے نوازا گيا ہے۔

انھوں نے اس موقعے پر پھر سے ’عالمی امن‘ اور ’عالمی سطح پر تعلیم‘ کی اپیل کو دہرایا۔

امریکی نیشنل کانسٹی ٹیوشن سنٹر کی ویب سائٹ کے مطابق ’لبرٹی میڈل‘ یعنی آزادی میڈل ہر سال ایسے شخص کو دیا جاتا ہے جو آزادی کی نعمت کی حفاظت کے لیے بے حد کوشش کرتا ہے۔

یہ ایوارڈ ہر سال فلاڈیلفیا میں دیا جاتا ہے۔

اس موقعے پر ملالہ یوسفزئی نے کہا: ’دنیا میں کہیں بھی کوئی لڑکی یا کوئی بچہ ایسا نہ ہو جو تعلیم سے محروم رہ جائے۔‘

اس میڈل کے ساتھ انھیں ایک لاکھ امریکی ڈالر کے نقد انعام سے بھی نوازا گیا۔

ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ اس اعزازی رقم کو اپنے آبائی ملک پاکستان کو تعلیم اور انسانی امدادی کاموں کے لیے وقف کرنا چاہتی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی بچوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ’ملالہ فنڈ‘ چلاتی ہیں۔

تعلیم کے متعلق حال میں ہونے والے انکشاف کے مطابق پاکستان میں کروڑوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لبرٹی میڈل میں میڈل کے علاوہ ایک لاکھ امریکی ڈالر کی نقد رقم بھی دی جاتی ہے

پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم الف اعلان نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں جن میں 50 فیصد سے زیادہ کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کے لیے یہ انعام نوبیل امن انعام کے دو ہفتوں بعد آیا ہے۔

پاکستان کی وادیِ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی مہم چلانے کے لیے شدت پسندوں کی گولی کا نشانہ بننے والی ملالہ کا نام گذشتہ سال بھی نوبیل امن انعام کے حقداروں کی فہرست میں تھا۔ انھیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انھیں یہ انعام ضرور ملے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بی بی سی اردو سروس پر گل مکئی کے نام سے ڈائریاں لکھنے کے بعد ملالہ کو عالمی شہرت ملی

وہ کہتی ہیں کہ نوبیل امن انعام سے بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کی ترغیب اور حوصلہ ملا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ دنیا کا ایک ایک بچہ سکول جائے۔

بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی کو اکتوبر سنہ 2012 میں طالبان نے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

حملے کے وقت وہ مینگورہ میں ایک سکول وین سے گھر جا رہی تھیں۔ اس حملے میں ملالہ سمیت دو اور طالبات بھی زخمی ہوئی تھیں۔ ابتدائی علاج کے بعد ملالہ کو انگلینڈ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ صحت یاب ہونے کے بعد زیرِ تعلیم ہیں۔

بعدازاں حکومتِ پاکستان نے انھیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن ایوارڈ دیا تھا۔ انھیں 2011 میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں