سعودی عرب میں 13 افراد کو قید کی سزا

سعودی باشندے تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی والے اتحاد میں شمولیت پر ملک میں سعودی حکومت کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے

سعودی عرب میں ایک عدالت نے 13 افراد کو قطر اور کویت میں موجود امریکی فوجیوں پر حملوں کا منصوبہ بنانے کے الزام میں سزا سنائی ہے۔

ان افراد میں 11 سعودی باشندے، ایک قطری اور ایک افغان شہری شامل ہے۔

اس کے علاوہ سعودی میڈیا اور وکلا کا کہنا ہے کہ پیر کو بھی دو سعودی شہریوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان پر ملک میں شیعہ برادری کے اکثریت والے علاقے عوامیہ میں ایک پولیس سٹیشن پر مولٹو کاک ٹیل سے حملہ کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق منگل کو عدالت نے کہا کہ ان لوگوں نے دہشت گرد سیل بنانے کے لیے سعودی سرزمین کو استعمال کیا ہے جہاں سے وہ قطر میں امریکی فورسز کے خلاف دہشت گردی کا آپریشن کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس آپریشن کے لیے اسلحہ اور رقوم بھی اکٹھی کیں اور لوگوں کو بھی سیل کے لیے بھرتی کیا۔

ایجنسی کے مطابق ان افراد پر کویت میں امریکی فوجیوں کو دہشت گرد حملوں کا ہدف بنانے کا منصوبہ بنانے کا بھی جرم ثابت ہوا ہے۔

ایجنسی کے مطابق گروہ کے مبینہ رہنما کو، جو ایک قطری باشندے ہیں، 30 سال کی قید سنائی گئی جس کے بعد انھیں سعودی عرب سے نکال دیا جائے گا، جبکہ باقی دو کو 18 ماہ سے 18 سال تک کی قید کی سزا سنائی گئی۔

یہ ان 41 افراد میں سے ہیں جنھیں 2011 میں القاعدہ سے منسلک سنی شدت پسندوں کا ایک سیل بنانے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کو تشویش ہے کہ عراق اور شام میں جاری جنگ اس کے باشندوں کو بھی اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے گذشتہ چند ہفتوں میں کئی مشتبہ شدت پسندوں کو سزائیں سنائی ہیں۔

سعودی حکومت نے ملک کے مشرقی صوبے میں بدنظمی کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں تیل کے وسیع ذخیرے موجود ہیں اور یہیں شیعہ اقلیت بھی رہتی ہے۔

پیر کو عدالت نے پولیس سٹیشن پر حملے کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنائی اور تیسرے کو 12 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ مدعا علیہان نے الزام لگایا ہے کہ ان پر جبر کر کے اقبالِ جرم کروایا گیا ہے۔

اسی بارے میں