برطانیہ کا افغان اور عراق جنگوں میں غلطیوں کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption برطانوی فوجی 2014 کے آخر میں افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں

برطانیہ کے سابق فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ فوجی حکام نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی شدت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل سر پیٹر وال کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں افغانستان میں ’محدود‘ مقاصد حاصل کرنے کے لیے موجود ’فوجی افرادی قوت کافی‘ تھی، لیکن اب وہ سوچتے ہیں کہ انھوں نے غلط اندازہ لگایا تھا۔

بریگیڈیئر ایڈ بٹلر 2006 میں ہلمند کے فوجی کمانڈر تھے۔ ان کے بقول نہ تو ان کے فوجی اس مشکل جنگ کے لیے تیار تھے اور نہ ان کے پاس لڑائی کے لیے درکار اسلحہ موجود تھا۔

لیکن برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھیں افغانستان میں حاصل کی گئی فتوحات پر فخر ہے۔

2001 سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک 453 برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

2004 تک برطانوی فوج عراق اور افغانستان دونوں محاذوں پر لڑ رہی تھی اور برطانوی فوجی حکام کا خیال ہے کہ انھیں اس وقت اندازہ تھا کہ ان کے پاس ایک سے زیادہ محاذوں پر لڑنے کے لیے درکار وسائل نہیں تھے۔

لیکن اس کے باوجود انھوں نے 3300 برطانوی فوجی افغانستان بھیجنے کا نیٹو سے کیا گیا وعدہ پورا کیا۔

بی بی سی ٹو سے بات کرتے ہوئے جنرل وال کا کہنا تھا کہ ’ان کے پیش کردہ منصوبے میں افغانستان بھیجے گئے فوجیوں کی تعداد کو محدود مقاصد کے حصول کے لیے کافی قرار دیا گیا تھا لیکن ابھی وہ کھل کر اپنے اس اندازے کے غلط ہونے کا اقرار کرتے ہیں‘۔

عراق اورافغانستان کی جنگ میں ناقص اندازے:

افغانستان میں برطانوی فوجی بھیجنے کے بعد برطانیہ کے فوجی حکام کا خیال تھا کہ 2005 تک عراق کی صورت حال میں بہتری آئے گی لیکن ان کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا۔

2006 سے 2009 تک برطانوی فوج کے سربراہ لارڈ ڈانٹ کا کہنا ہے کہ ’شاید مجھے اس بات کا اندازہ لگا لینا چاہیے تھا کہ عراق کے حالات بہتر نہیں ہوں گے اور 2006 میں عراق میں برطانوی فوجیوں کی تعداد 1500 تک کم کر دینا درست فیصلہ نہیں تھا۔‘

لارڈ رچرڈز 2006 اور 2007 میں ایساف کے 35 ہزار فوجیوں کی کمانڈ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ اس جنگ میں شدت آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فوج میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ بہتر نتائج کی توقع رکھیں لیکن خود کو بدترین نتائج کے لیے تیار رکھیں، لیکن ہم صرف بہتر نتائج کی توقع کر رہے تھے اور خراب نتائج کے تیار نہیں تھے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ میرے پاس اس جنگ کے لیے درکار وسائل ہی نہیں تھے۔‘

سنہ 2006 میں افغانستان کے ہلمند صوبے میں برطانوی فوج کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا تھا۔ انھیں طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا، ہتھیاروں اور خوراک کی قلت تھی اور ان کا واحد آسرا ہیلی کاپٹر تھے۔

ہلمند میں اس وقت کے برطانوی فوجی کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ بٹلر کا کہنا ہے کہ ’ہم نہ تو اس جنگ کے لیے تیار تھے اور نہ ہمارے پاس زیادہ ہتھیار اور وسائل تھے، بلکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے پاس فتح حاصل کرنے کے لیے واضح حکمت عملی بھی نہیں تھی۔‘

لیکن برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ حقیقت دستاویزات کا حصہ ہے کہ افغان جنگ کے اوائل میں یقیناً رکاوٹیں تھیں لیکن افغانستان میں حاصل کی گئی کامیابوں پر انھیں یقیناً فخر ہے۔‘

اسی بارے میں