کینیڈا کی پارلیمنٹ میں فائرنگ کی ویڈیو جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 32 سال کے مائیکل زیہاف بیبو کینیڈین شہری تھے اور مبینہ طور پر حال ہی میں مذہب تبدیل کر مسلمان ہوئے تھے

کینیڈا میں پولیس نے بدھ کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہونے والی فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے جبکہ وزیر اعظم سٹيون ہارپر نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک میں مزید سخت قانون بنائے جائیں گے۔

کینیڈا کے رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے کمشنر باب پلسن نے جمعرات کو یہ ویڈیو جاری کی۔

بدھ کو ایک مسلح شخص مائیکل زیہاف بیبو نے وار میموریل میں تعینات ایک نہتے سیکورٹی اہلکار کو گولی مار دی تھی اور پھر اس کے بعد پاس ہی موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس کر فائرنگ کی تھی۔

پارلیمنٹ کے احاطے میں سکیورٹی اور ملسح شخص کے درمیان فائرنگ میں مائیکل زیہاف مارے گئے تھے۔ بعد میں زخمی ہونے والا سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

32 سالہ مائیکل زیہاف بیبو کینیڈین شہری تھے اور مبینہ طور پر حال ہی میں مذہب تبدیل کر مسلمان ہوئے تھے۔

Image caption کینیڈا کے وزیر اعظم سٹيون ہارپر نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک میں مزید سخت قانون بنائے جائیں گے

پولیس کمشنر کے مطابق مائیکل زیہاف کا نام 90 لوگوں کی اس فہرست میں شامل نہیں تھا جنھیں کینیڈین سکیورٹی ایجنسی مشتبہ خطرناک افراد سمجھتی ہے۔ پولیس نے مائیکل کو ایک معمولی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدھ کا واقعہ انھوں نے اکیلے ہی انجام دیا۔

سخت قوانین بنانے کا اعلان

کینیڈا میں تین دنوں کے دوران یہ دوسرا حملہ تھا۔ اس واقعے کے ایک دن بعد جمعرات کو کینیڈا کے وزیر اعظم سٹيون ہارپر نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ملک میں مزید سخت قانون بنائے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو اور زیادہ اختیارات دینے کے لیے جلد ہی ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حملے کا بنیادی مقصد کینیڈا کے لوگوں میں خوف اور دہشت پھیلانا تھا لیکن انھوں نے سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط کرنے کا یقین دلایا۔

وزیر اعظم سٹيون ہارپر کا کہنا تھا: ’لوگوں کی نگرانی کرنے اور ان کو حراست میں لیے جانے کے حق کو اور زیادہ مضبوط کیے جانے کی ضرورت ہے۔ صدر صاحب، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کام پہلے ہی کیے جا رہے ہیں لیکن اب ان کی رفتار اور بڑھا دی جائے گی۔‘'

وزیر اعظم نے مزید کہا: ’ہم لوگ محتاط رہیں گے لیکن ڈریں گے نہیں۔‘

کینیڈا نے حال ہی میں عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ اسلامی کے خلاف امریکی قیادت میں کیے جا نے والے فضائی حملوں میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم بدھ کو ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات کر نے والے پولیس حکام کے مطابق ابھی تک اس حملے کا دولتِ اسلامیہ سے کوئی تعلق ہونے ظاہر نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Socail media
Image caption کینیڈا کا میڈیا پولیس ذرائع کے مطابق بتا رہا کہ یہ تصویر مائیکل ذیہاف کی ہے

مائیکل زیہاف بیبو کی ماں نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی موت پر نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے رو رہی ہیں جو ان کے بیٹے کی فائرنگ کا شکار ہوئے ہیں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’میں نے گذشتہ ہفتے اس سے بات کی تھی۔ اس سے پہلے میں نے اسے پانچ سال تک نہیں دیکھا تھا۔ مائیکل نے لوگوں کو جو دکھ دیا ہے، میں اس کے لیے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ میرے پاس صفائی دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔‘

اسی بارے میں