کیا آپ کو معلوم ہے کہ چکن کہاں سے آتا ہے؟

چکن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مرغیوں کو جلد از جلد زیادہ گوشت کے لیے تیار کرنے پر دنیا بھر میں تنقید بھی کی جاتی ہے

آج کل اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ مارکیٹ میں آنے والا چکن کس طرح تیار ہوتا ہے۔

اس بارے میں مہم چلانے والے کہتے ہیں کہ گوشت کو بہتر طریقے سے لیبل کرنا ضروری ہے۔ تو ہم ان مرغیوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس کا گوشت ہماری پلیٹوں تک پہنچتا ہے۔

شاید اتنا ہی کہ یہ لوہے کے لمبے لمبے شیڈز میں پلتی ہیں، بڑے بڑے پلاسٹک کے ڈرموں سے دانہ کھاتی ہے، وہاں پائپ اور چمنیاں لگی ہوتی ہیں۔ عام آدمی کے لیے یہ بالکل ایک کیمیکل پلانٹ جیسا ہی لگتا ہے۔

برطانیہ کے پیک ڈسٹرکٹ جیسے خوبصورت علاقے میں مرغیاں پالنے کے پلانٹ بالکل عجیب سے لگتے ہیں۔ صرف ایک چیز اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ ان کے اندر کوئی زندہ چیزیں بھی رہ رہی ہیں اور وہ ہے ایکسٹریکٹر فین سے نکلنے والی چبھتی ہوئی بدبو۔

یہ پلانٹ کوئی روغن یا کھاد کی فیکٹری نہیں ہے۔ اسے لوئر فارم کہتے ہیں اور یہاں چکن پیدا کیے جاتے ہیں۔

یہ چکن صرف 33 یا 38 دنوں میں بڑھ کر اوسطاً 2.2 کلو گرام کے ہو جاتے ہیں۔ ذبح کے لیے بالکل تیار۔

یہاں سے چکن کبھی باہر نہیں نکلتے، ہر چیز چار بڑے شیڈز کے اندر ہی ہوتی ہے۔ شیڈز کے اندرونی حصے کی ہر وقت فلم بندی کی جاتی ہے اور اہم اعداد و شمار ریکارڈ کیے جاتے ہیں کہ کس پرندے نے کتنا پانی پیا، فیڈر کے ذریعے دیا گیا دس کلوگرام فیڈ کا کتنا حصہ کھایا، کون سے پرندے کا کتنا وزن ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لوئر فارم میں ہر سال ساڑھے 12 لاکھ چکن پیدا کیے جاتے ہیں۔

برطانیہ میں بیچا جانے والا چکن کم و بیش اسی قسم کے فارموں سے آتا ہے۔

Image caption لوئر فارم کے بیرونی حصے کا ایک منظر

خیراتی ادارے کمپیشن ان ورلڈ فارمنگ (سی ڈبلیو ایف) کے کیمپین ڈائریکٹر ڈل پییلنگ کہتے ہیں کہ ’اس طرح کی بڑے پیمانے پر کی جانے والی چکن فارمنگ بند دروازوں کے پیچھے ہوتی ہے۔ یہ لوگوں سے چھپائی جاتی ہے۔ ان کے ذہنوں میں ابھی بھی فارم میں دانہ چگتے ہوئے چکن کا تصور ہے۔‘

برٹش پولٹری کونسل کے مطابق ملک میں فری رینج چکن پانچ فیصد پیدا ہوتا ہے، اورگینک ایک فیصد، جبکہ باقی 94 فیصد شیڈز میں پالے گئے پرندوں سے آتا ہے۔

یہ انڈوں سے قدرے مختلف ہے جہاں فری رینج اور اورگینک انڈے برطانیہ کی پیداوار کا تقریباً 45 فیصد ہیں۔

انڈے پیدا کرنے والی اور چکن کا گوشت پیدا کرنے والی دو مختلف صنعتیں ہیں۔ 1950 سے دو طرح کی چکن فارمنگ کی جاتی رہی ہے۔ ایک وہ جو انڈے دینے والی مرغیوں کی فارمنگ کرتی اور دوسری گوشت کے لیے برائلر چکن کی پیداوار کرتی ہے۔

اگرچہ یہ دونوں مختلف صنعتیں ہیں لیکن پھر بھی لوگ فری رینج انڈے خریدنا تو پسند کرتے ہیں لیکن فری رینج چکن پر کوئی اتنی خاص توجہ نہیں دیتے۔ ایک برائلر کی اوسط عمر 39 دن ہوتی ہے۔ اسی لیے حال ہی میں سی ڈبلیو ایف نے 39 دنوں کی ایک مہم چلائی کہ چکن کی پیداوار کے طریقے کو بیچتے ہوئے اچھی طرح لیبل کرنا چاہیے۔

ہو سکتا ہے کہ قیمتِ خرید اس کی بنیادی وجہ ہو۔ فری رینج اور اورگینک چکن کے گوشت کی قیمتوں میں فری رینج انڈوں کی نسبت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ جو 6.95 پاؤنڈ سے لے کر 19 پاؤنڈ تک کا ہے۔

لیکن انڈے چونکہ نسبتاً سستے ہوتے ہیں اس لیے ان کی قیمتوں میں تھوڑی بہت کمی بیشی کا پتہ نہیں چلتا۔ جبکہ فری رینج اور برائلر چکن کے گوشت میں فرق بہت واضح ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ میں زیادہ تر چکن کے سینے کو پسند کیا جاتا ہے

انڈوں کی صنعت میں بیٹری فارمنگ یعنی بہت ہی محدود جگہ میں اور برے حالات میں مرغیوں سے انڈے پیدا کرانے کے عمل کی اتنی مذمت کی گئی کہ سنہ 2012 میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ کئی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر لوگ یہ دیکھ لیں کہ کس طرح سستے چکن پیدا کیے جاتے ہیں تو شاید وہ چکن کھانا ہی چھوڑ دیں۔

اسی لیے اس صنعت سے منسلک زیادہ تر افراد عام لوگوں کو چکن فارمز کے دورے کروانے سے کتراتے ہیں۔ برٹش پولٹری کونسل سے طویل مذاکرات کے بعد بالآخر لوئر فارم کے دورے کا بندوبست کیا گیا۔

سو یہ کیسا تھا؟

اگر آپ باہر والی عمارت کے پہلے دروازے میں داخل ہوں تو آپ اپنے آپ کو کنٹرول روم میں پائیں گے جہاں سی سی ٹی وی کیمرے سے منسلک ٹی وی سکرینیں لگی ہوئی ہیں۔ آپ کو شیڈ کے اندر مرغیوں کا ایک ازدحام نظر آئے گا۔ وہاں اس وقت 33,426 مرغیاں ہیں۔ ایک دن پہلے وہاں 45,000 تھیں، باقیوں کو ذبح کر دیا گیا ہے۔ ادھر موجود مرغیوں کی عمر 34 دن ہے۔

آپ ذرا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوں تو آپ اپنے آپ کو مرغیوں کے سفید سمندر میں پائیں گے۔ اندر حالات اتنے برے نہیں جتنے 2012 سے پہلے تھے۔ قدرتی روشنی کھڑکیوں سے اندر آ رہی ہے اور چکن تھوڑی بہت حرکت کر سکتے ہیں۔

زمین لکڑے کے چورے اور مرغیوں کی بیٹ کی وجہ سے نرم ہے۔ فرش کے نیچے ہیٹنگ سسٹم ہے۔ ہر سال مرغیوں کی سات کھیپیں یہاں تیار کی جاتی ہیں جو کہ تعداد میں تقریباً 310,000 بنتی ہیں۔ اس دوران تقریباً 3.3 فیصد پرندے قدرتی موت مر جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگر لوگ شیڈز کے اندر مرغیوں کی حالت دیکھ لیں تو شاید انھیں کھانا ہی چھوڑ دیں

ہر کھیپ کے بعد لکڑی کا چورا اور فضلہ اکٹھا کیا جاتا ہے اور پوری جگہ کو ڈس انفیکٹ کیا جاتا ہے۔

ابھی اندر آئے ہوئے دس منٹ ہی ہوئے ہیں لیکن بدبو برداشت سے باہر ہے۔ یہ مرغیوں کی بیٹوں سے پیدا ہونے والے امونیا کی بو ہے۔ شیڈ میں ہوا کے اخراج کا بندوبست ہے تاکہ اس گیس کو انتہائی حد تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ شیڈ کے مالک ڈیوڈ سپیلر کہتے ہیں کہ انھیں اس بو کی عادت پڑ گئی ہے۔

’ہم نے امونیا، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسوں کے لیول کو مانیٹر کیا ہے اور حقیقت میں یہ بہت زیادہ نہیں ہیں۔ لیکن یہ دوسری طرح کی بو ہے۔‘

باہر سورج چمک رہا ہے۔ کیا سپیلر کے دل میں نہیں آتا کہ وہ مرغیوں کو باہر جا کے دانا چگنے دیں؟ اس سوال پر وہ ہنس دیے اور کہا کہ ’ڈربی شائر کی پہاڑیوں پر سال کے زیادہ تر حصے میں تو پرندے نہیں بچیں گے۔‘

سپیلر کہتے ہیں کہ جینیاتی طور پر اکثر فری رینج پرندے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے، اگرچہ ان کی مٹی میں چیزیں چگنے کی صلاحیت ان کے گوشت میں ذرا مختلف مزہ ضرور پیدا کرتی ہے۔ باہر یہ جانور جب کیڑے مکوڑے، لیڈی برڈ اور بھنورے کھاتے ہیں تو ان کے گوشت کا ذائقہ ضرور بدلتا ہے۔ لیکن ’بند دروازوں میں رہنے والے پرندوں کو جانوروں کی پروٹین نہیں دی جا سکتی۔‘

کتاب ’ایٹنگ اینیملز‘ کے امریکی مصنف جوناتھن سفران فوئر کہتے ہیں کہ جانوروں کی پروٹین کبھی اتنی سستی نہیں تھی۔ امریکی اب 80 سال پہلے کی نسبت 150 گنا زیادہ چکن کھاتے ہیں۔

اگر چین اور انڈیا بھی اسی تناسب سے چکن کھانے لگیں تو تیزی سے تیار کیے گئے پرندوں کی تعداد سالانہ ایک ارب تک پہنچ جائے گی۔

اسی بارے میں