’دولت اسلامیہ پر حملوں میں 553 افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شام کے شہر کوبانی کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدت پسندوں اور کرد افواج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے

شام کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی حقوق انسانی کی برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوج کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف ستمبر سے کیے جانے والے حملوں اب تک 553 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے 464 شدت پسندوں کے علاوہ 57 دیگر شدت پسند اور 32 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب شام کے شہر کوبانی کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدت پسندوں اور کرد افواج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

کرد ذرائع نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کوبانی سے چار کلومیٹر مغرب میں ایک قصبے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

ترکی کی سرحد سے ملحق شام کے شہر کوبانی پر کرد افواج نے نو روز قبل قبضہ کیا تھا۔

کوبانی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کرد افواج پر شیلنگ کی اور قصبے پر بھی حملہ کیا۔

کرد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کوبانی کے شمالی اور جنوبی حصوں سے بدھ کی رات شدید حملے کیے۔

ذرائع کے مطابق تازہ لڑائی جمعرات کی صبح شروع ہوئی۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ امریکی سربراہی والے اتحاد نے کوبانی کے اطراف میں اتوار اور پیر کو چھ فضائی حملے کیے اس کے علاوہ عراق میں فلوجہ اور بیجی کے مقام پر فرانسیسی اور برطانوی طیاروں نے علیحدہ سے چھ حملے کیے۔

ایک حملے میں اس فوجی سازوسامان کے بنڈل کو تباہ کر دیا گیا جو گذشتہ دنوں ہوائی جہاز سے گرائے جانے کے وقت غلط جگہ گر گیا تھا اور اس سامان کے بارے میں خدشہ تھا کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

شام اور عراق کے بڑے علاقے پر دولت اسلامیہ کے تیزی سے قابض ہوجانے نے مغربی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا جس سے انھیں اس کے خلاف فضائی حملے کی تحریک ہوئی۔

پیر کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ایوان سیمونووک نے اقلیتوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

اس ضمن میں بطور خاص یزیدی اقلیت کے خلاف ظلم کو نسل کشی کے مترادف قرار دیا۔

اسی بارے میں