عراقی شہریوں کے قتل پر بلیک واٹر اہلکار مجرم قرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption استغاثہ کا کہنا ہے کہ بلیک واٹر کے محافظوں کا عراقی شہریوں کے خلاف رویہ جارحانہ تھا اور انھوں نے بلاامتیاز اپنے ہتھیاروں سے فائرنگ کی

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے 2007 میں عراقی دارالحکومت بغداد میں 14 عراقی شہریوں کی ہلاکت کے مقدمے میں متنازع نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے سکیورٹی محافظوں کو مجرم ٹھہرایا ہے۔

عدالت نے چار میں سے ایک محفاظ کو قتل اور دیگر تین کو قتلِ غیرارادی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

سال 2007 میں بلیک واٹر کے سکیورٹی گارڈز نے ایک امریکی قافلے کا راستہ صاف کرنے کے لیے فائرنگ کی تھی جس میں 14 عراقی شہری ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ بغداد کے نصور سکوئر میں ہونے والی ان ہلاکتوں سے جہاں عراق اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، وہیں جنگ زدہ علاقوں میں نجی سکیورٹی کمپنیوں کے کام کرنے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد امریکی حکام نے بلیک واٹر کے سکیورٹی ٹھیکے میں توسیع روک دی تھی اور کمپنی نے اپنا نام بلیک واٹر سے بدل کر ’زی سروسز‘ رکھ لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے میں 14 ہلاکتوں کے علاوہ 17 شہری زخمی ہو گئے تھے

استغاثہ کا کہنا ہے کہ بلیک واٹر کے محافظوں کا عراقی شہریوں کے خلاف رویہ جارحانہ تھا اور انھوں نے بلاامتیاز فائرنگ کی۔

ہلاکتوں کے اس کیس میں نکلولس سلیٹن کو قتل جبکہ پال سلیو، ایون لبرٹی اور ڈسٹن ہرڈ کو کم از کم قتلِ غیر ارادی اور فائرنگ کے تین الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے 2010 میں ایک وفاقی جج نے امریکی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے پانچ اہلکاروں کے خلاف سنہ 2007 میں 17 عراقیوں کی ہلاکت کا مقدمہ خارج کر دیا تھا۔

اس کے بعد عراقی حکومت نے امریکہ میں عراقی شہریوں کی طرف سے نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے خلاف دائر مقدمے میں عراقی شہریوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں